آئی پی پیز معاہدوں پرنظر ثانی کی صورت میں پاکستان کوکتنے سوارب کا ریلیف ملے گا؟

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور اقتدار میں بجلی کے منصوبے لگائے گئے مگر ان سے لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی، لائن لاسز اور بجلی کی ترسیل کے نظام پر سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر نظر ثانی کر لے تو آئندہ3 سال کے اندر اندر صارفین کو 300 ارب روپے کا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ جس سے بجلی کو بھی ایک روپے 40 پیسے تک سستا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی کے سربراہ اسد عمر کی توانائی سیکٹر پر اہم بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا سابق دور میں بجلی گھر تو لگائے گئے مگر طلب تھی ہی نہیں، سرکلر ڈیٹ اور ناقص ترسیلی نظام ورثے میں ملا، حکومت نے سرکلر ڈیٹ کی ماہانہ بنیاد پر رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسد عمر نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری پر 47 ارب روپے خرچ کیے ہیں، حکومت نے ترسیلی نظام کی صلاحیت میں 4 ہزار میگا واٹ اضافہ کیا ہے، کبھی نہیں کہا کہ دسمبر 2020 تک گردشی قرضہ ختم ہو جائے گا، عمر ایوب کو نہ جانے کون یہ کہتا تھا کہ گردشی قرضہ ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت میں آتے ہی بجلی 12 روپے فی یونٹ مہنگی کرتے تو سرکلر ڈیٹ ختم ہوتا، حکومت سالانہ 1000 ارب روپے کپیسٹی چارجز کی مد میں خرچ کر رہی ہے۔