آرمی چیف نے گلگت بلتستان کے ایشو پر میری اجازت پر اپوزیشن سے بات کی: عمران خان


اسلام آباد وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ایک سکیورٹی ایشو ہے،وہاں بھارت مداخلت کرنا چاہتا ہے،آرمی چیف نے سکیورٹی ایشو کی وجہ سے میری اجازت سے اپوزیشن سے بات کی۔

دنیا نیوز کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے کیبنٹ میں کہا کہ رانا ثنااللہ کا کیس میرٹ پر کیا جائے،میں اداروں میں مداخلت نہیں کرتا،اینٹی نارکوٹک فورس(اے این ایف )ابھی بھی کہہ رہی کہ انکا کیس ٹھیک ہے۔اکانومی بھی ٹھیک نہیں تھی اور کورونا بھی آیا،مجھے اللہ نے اقتدار میں آنے سے پہلے سب کچھ دیا،جو مرضی کریں دھرنے دیں ان کو این آر او نہیں ملے گا،ایف اے ٹی ایف میں انہوں نے غلطی کی کہ نیب قوانین میں ترامیم لکھ کر دے دیں،مجھے پتہ تھا کہ یہ جمہوریت کے نام پر اکھٹے ہوکر بلیک میل کرینگے ،مجھے ان کی کرپشن کا پتہ ہے،ان کو این آر او کسی صورت نہیں دوں گا ان کو این آر او دیکر ملک سے غداری کروں گا۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج پاکستان کی فوج ہے،ایسے سول ملٹری تعلقات پہلے کبھی نہیں تھے،فوج کو بھی پتہ ہے کہ نہ میں فیکٹریاں بنارہا،نہ میں نے اپنے رشتے داروں کو نوازا،فوج ہر اس وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہوگی جو ملک کے لئے کام کرے گا،فوج ملک کو مضبوط کرنا چاہتی ہے،فوج ملک کا ادارہ ہے،میں اس ملک کا وزیراعظم ہوگا،کورونا اورسیلاب میں فوج نے بہترین کام کیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ خود باہر بیٹھیں ان کا پاکستان سے کیا لگاؤہوگا،جن ویب سائٹس سے پاکستان پر حملہ ہوتا وہی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کو سپورٹ کررہی ہیں۔میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے،ان پر پریشر پڑتا ہے تو باہر بھاگ جاتے ہیں،اب ایک ایسا وزیراعظم آگیا ہے جو ان کو این آر او نہیں دے گا، مشرف نے ان دونوں پارٹیوں کو این آر او دیا۔فافن نے کہا کہ 2018کا الیکشن 2013 سے بہتر تھا،اپوزیشن کے پاس دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے،یہ وہی پروپیگنڈا کررہے جس کو یورپی یونین کی ڈس انفو لیب نے بے نقاب کیا ہے،نواز شریف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو ہٹ کیا،جب تک ان کی چوری معاف نہیں ہوگی یہ کچھ نہ کچھ کہتے رہینگے۔