آصف زرداری نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا راستہ دشوار کردیا، حامدمیر


زرداری صاحب نے اپنی تقریر سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا راستہ دشوار کر دیا ہے کیونکہ آئندہ پیپلز پارٹی پر اعتبار کرنا بہت مشکل ہو گا ل لیکن عمران خان کو پی ڈی ایم اختلافات سے زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے۔حامد میر

روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں حامد میر لکھتے ہیں کہ ایک زرداری پی ڈی ایم پر بہت بھاری ثابت ہوا لیکن عمران خان کی حکومت کو پی ڈی ایم کے اختلافات پر زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے۔ پی ڈی ایم کبھی بھی عمران خان کے لئے کوئی بڑا خطرہ نہیں تھی لیکن عمران خان نے اپوزیشن کے اس اتحاد کو اپنے سر پر سوار کر لیا۔ پی ڈی ایم کا سب سے زیادہ فائدہ شیخ رشید احمد کو ہوا۔

حامد میر نے دعویٰ کیا کہ یوسف رضا گیلانی دراصل مسلم لیگ ن کے ووٹوں سے جیتے اور تحریک انصاف کے ان اراکین اسمبلی نے بھی یوسف رضاگیلانی کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا جنہیں مسلم لیگ (ن) نے آئندہ انتخابات میں ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا۔

حامد میر کے مطابق پی ڈی ایم اجلاس میں زرداری صاحب کی ’’تاریخی‘‘ تقریر نے تحریک انصاف کے اُن ایم این اے حضرات کو سخت پریشان کر رکھا ہے جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے وعدے پر گیلانی کو ووٹ دیئے۔ آئندہ یہ صاحبان اپنے ضمیر کی آواز پر عمران خان کو دھوکہ دینے سے پہلے دس مرتبہ سوچیں گے۔

اپنے کالم میں حامد میر نے مزید کہا کہ زرداری صاحب نے اپنی تقریر سے کم از کم قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا راستہ دشوار کر دیا ہے کیونکہ آئندہ پیپلز پارٹی پر اعتبار کرنا بہت مشکل ہو گا۔ اسکے باوجود عمران خان کے لئے سب اچھا نہیں کیونکہ خان صاحب کو الیکشن کمیشن کے ساتھ جو پنگا بہت مہنگا پڑے گا۔

اپنے کالم کے آخر میں حامد میر نے لکھا کہ اس کالم کے آخری الفاظ دوبارہ دہرا رہا ہوں۔ ’’پی ڈی ایم کی کمزور حکمتِ عملی کے باعث عمران خان کی حکومت تو قائم ہے لیکن تحریک انصاف ماضی کا قصہ بن چکی۔ اگر عمران خان کے لئے سب اچھا نہیں تو پی ڈی ایم کی دو جماعتوں کے لئے بھی سب اچھا نہیں۔ آئین کے اندر ہی اندر ایسا بہت کچھ ہو سکتا ہے کہ عمران خان بھی بہت کچھ کھو سکتے ہیں اور پی ڈی ایم بھی بکھر سکتی ہے۔