آصف زرداری ن لیگ اور ق لیگ میں ثالث کا کردار ادا کریں گے، نجی چینل


نجی ٹی وی چینل کے مطابق پی ڈی ایم نے ان ہاؤس تبدیلی کا آغازپنجاب سے کرنے کی حکمت عملی طے کرلی ہے ،جس کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی ۔ تحریک عدم اعتماد کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک ہیں لیکن حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کو راضی کرنا مسئلہ ہے۔

نجی چینل نے دعویٰ کیا کہ آصف زرداری نے ن لیگ کومسلم لیگ ق سے اختلافات ختم کرنے کے لیے اپنی ثالثی میں معاملات طے کرنے پر راضی کرلیا ہے۔

پنجاب سے تحریک انصاف حکومت کو چلتا کرنے کیلئے جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان اسمبلی کی مدد بھی لی جائے گی اور پی ٹی آئی کوپنجاب میں ٹف ٹائم دیا جائے گا،جنوبی پنجاب کے ایم پی ایز کی مدد سے جنوبی پنجاب صوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے تحریک چلائی جائے گی۔

یہ فیصلہ بھی طے پایا ہے کہ بلاول اورمریم نواز جلسے جلوس ریلیوں سے خطاب کریں گے، حکومت کو قومی اسمبلی اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹف ٹائم دیں گے جبکہ نوازشریف اورآصف زرداری جوڑ توڑ کریں گے، حکمران اتحاد سے ناراض گروپوں سے رابطے کریں گے جبکہ پی ڈی ایم قیادت نے دونوں رہنماؤں کو فری ہینڈ دیدیا ہے۔

آصف زرداری ان ہاؤس تبدیلی کیلئے ق لیگ سے رابطے کریں گے اور مسلم لیگ ن اور ق لیگ میں صلح کروانے کیلئے ثالث کا کردارادا کریں گے۔سابق صدرنے پی ڈی ایم قیادت کو مسلم لیگ ن اورمسلم لیگ ق کے مابین اختلافات کے خاتمہ اوراعتماد سازی کے لیے نوازشریف کواپنی تجاویزپیش کی ہیں

اسکے لئے آصف زرداری نے پی ڈی ایم قیادت کوان ہاؤس تبدیلی کے پلان پراعتماد میں لیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کا آغازپنجاب سے کیا جانا ہے ۔سابق صدر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ ق اورجنوبی پنجاب محاذ کے ارکان اسمبلی سے ابتدائی رابطے کیے جن میں انہیں اہم کامیابی ملی ہے ۔

پیپلزپارٹی کے معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق زرداری کی ثالثی میں مسلم لیگ ن اورمسلم لیگ ق کے مابین برسوں سے جاری اختلافات باالخصوص چودھری برادران اورنون لیگ کی قیادت کے مابین غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے سابق صدرنے بطورگارنٹراپنی خدمات پیش کردی ہیں اور انکے درمیان تلخیاں اور غلط فہمیاں ختم کرنے کیلئے پُل کا کردار ادا کریں گے۔

علاوہ ازیں آصف زرداری نے جنوبی صوبہ پنجاب محاذ کے ارکان اسمبلی سے بھی سیاسی رابطوں کا سلسلہ شروع کردیا اورانہیں پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کے معاملے پراعتماد میں لے کرتعاون پرآمادہ کرنے کی کوشش شروع کردی گئی ہے ۔

دوسری جانب تحریک انصاف بھی کافی متحرک نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف بھی ن لیگ کے ناراض رہنماؤں سے رابطے میں ہیں، اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف حکومت ن لیگ کے ناراض اراکین کو ترقیاتی فنڈز اور حلقے میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کرواکر انہیں اپنے ساتھ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

کچھ روز قبل ایک صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 ارکان اسمبلی نے عثمان بزدار سے ملاقات کی اور عثمان بزدار نے انکے حلقے کے مسائل حل کرنے کیلئے انہیں یقین دہانی کرائی ہے۔