آن لائن فراڈیوں کے خلاف کاروائی، شناختی کارڈز بلاک


آن لائن فراڈیوں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ، سائبر کریمنلز کا اب شناختی کارڈ بلیک لسٹ ہوگا۔

پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) نے جعلسازوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 3 لاکھ 67 ہزار شناختی کارڈز بلیک لسٹ کردئیے ہیں۔ ان شناختی کارڈز پر آئندہ کوئی سم رجسٹرڈ نہیں ہوگی۔

پی ٹی اے دستاویز کے مطابق فراڈ میں ملوث 1772 سمز ریٹیلرز کے لائسنس معطل اور 22 کو مکمل فارغ کردیا گیا ہے۔ 247 فرنچائز مالکان کو وارننگ جاری کی گئی ہے جبکہ اس جرم میں ملوث 21 ملازمین نوکری سے برطرف کردیئے گئے ہیں۔

ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد موبائل نمبر بلاک کرکے لاکھوں روپے کے جرمانے بھی پی ٹی اے کی جانب سے عائد کئے گئے ہیں۔

یہ سب آن لائن فراڈیئے بےنظیرانکم سپورٹ ، احساس پروگرام سمیت انعامی اسکیموں کا لالچ دے کر شہریوں کو لوٹتے تھے جن کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔

پی ٹی اے نے انگوٹھوں کی شناخت چوری کرنے والے 3 لاکھ سے زائد جعل سازوں کے شناختی کارڈ بلیک لسٹ کر کے 5 کروڑ سے زائد شناختی کارڈوں کی چھان بین کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق نادرا کی مدد سے5 کروڑ شناختی کارڈز کی نشاندہی ہوئی جن کی مدت کئی سال پہلے ختم ہوچکی تھی لیکن ان پر سمیں اب بھی رجسٹرڈ ہیں۔

پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق ایسی سمیں مختلف جرائم کیلئے استعمال ہونے کا خدشہ ہے اور چھان بین کے بعد ان کو بلاک کیا جا سکتا ہے، اس طرح یہ تعداد 3 لاکھ 67 ہزار سے بڑھ کر کروڑوں تک جا سکتی ہے۔