آٹا اور چینی 25 فیصد تک سستی ، مزید کمی کی توقع، کامران خان کی رپورٹ


سینئر اینکر پرسن اور صحافی کامران خان نے اپنے پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں ماہر امور اجناس نجیب بالاگام والا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح موجودہ حکومت کے درست فیصلوں کی بدولت مہنگائی کو قابو کرنے میں مدد ملی ہے۔

ماہر امور اجنا نجیب بالاگام والا نے بتایا کہ گندم کا 1650 روپے فی من گندم کی قیمت بالکل مناسب ہے کیونکہ اگر اس سے تھوڑا سا اگر اور ریٹ اوپر کر دیا جائے تو اس کا فائدہ کسانوں کو ہوگا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں 26 ملین ٹن سے 27 ملین ٹن گندم کی ضرورت رہتی ہے۔

نجیب بالاگام والا نے کہا کہ گندم کی سمگلنگ اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بالکل عام سی بات ہے کیونکہ سمگلنگ سے اتنا فرق نہیں پڑتا کہ 25 روپے والی چیز 100 روپے میں بکنے لگے مگر حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کر کے اس پر قابو پایا ہے۔

دوسری جانب کامران خان نے چینی کی برآمد سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی علاقوں میں دیسی چینی کا استعمال بڑھنے سے چینی کے نرخوں کو بھی قابو کرنے میں مدد ملے گی جس پر نجیب بالاگام والا نے کہا کہ فروری مارچ میں شوگر ملیں بند ہو جائیں گی اس سے قبل پگاس سے خام چینی بنا لینی چاہیے کیونکہ اس کو جنوبی علاقوں میں استعمال کیا جاتا ہے جس سے چینی کے نرخوں اور طلب پر فرق پڑے گا۔