اردو زبان کے بعد اچکزئی پنجابیوں کی توہین لیکن ٹوکنےو الا کوئی نہیں؟


کیا پی ڈی ایم کے جلسوں میں تعصبانہ عنصر کو بڑھاوا دینے والوں کو ٹوکنے والا بھی کوئی نہیں؟ اینکر پرسن کامران خان کا سوال

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے لاہور جلسے میں پنجابیوں سے متعلق دیئے گئے بیان نے جس بحث کو چھیڑا ہے اس سے تعصب اور لسانیت کی بدبو آتی ہے جو کہ ملکی سیاست کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں اور نہ ہی اس کا انہیں کوئی فائدہ پہنچنے والا ہے البتہ وہ اس سے ملکی عوام کا نقصان ضرور کر رہے ہیں۔

سینئر صحافی اور اینکر پرسن کامران خان نے محمود خان اچکزئی کے بیان سے متعلق کہا کہ انہوں نے جو بیان دیا اور جس پلیٹ فارم کا انتخاب کیا وہ دونوں غلط تھے اور اب ان کو مقتدر حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ ان کو تاریخی معاملات کو اس طرح موضوع بحث بنانے سے پہلے سوچنا چاہیے۔

کامران خان نے کہا کہ اس سےقبل بھی وہ کراچی جلسے میں اردو زبان کے خلاف بول چکے ہیں کہ وہ اردو کو قومی زبان نہیں مانتے مگر وہ یہ سب گفتگو بھی اردو میں ہی کر رہے تھے پھر ان کا یہ تعصب کس کام کا ہے۔

سینئر اینکر پرسن نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنما سٹیج پر موجود ہوتے ہیں مگر کیا کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ محمود اچکزئی کو ایسے تعصبانہ بیانات دینے اور ہرزہ سرائی سے روک سکے؟

انہوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی کے اس بیان کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسے ٹرینڈز سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانیوں نے ان کے اس بیان کو بالکل پسند نہیں کیا۔

اس حوالے سے انہوں نے مجیب الرحمان شامی کا حوالہ دیا جن کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی نے غلط بات کی اور حقائق کو اپنی مرضی سے مسخ کیا جو کہ غلط بات ہے۔