ارسلان محسود کیس : مشکوک پستول کا معاملہ معمہ بن گیا


کراچی : ارسلان محسود کیس میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی جبکہ مشکوک پستول کا معاملہ بھی معمہ بن گیا، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمد پستول اہلکارتوحید کے ساتھی عمیر کا ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے اورنگی میں نوجوان ارسلان کو مبینہ مقابلے میں قتل کرنے کے معاملے پر برآمد مشکوک پستول کا معمہ حل نا ہوسکا۔

اس حوالے سے تفتیشی ٹیم نے مختلف خطوط پر جائزہ لیا، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ پستول اہلکارتوحیدکےساتھی عمیرکی بھی ہوسکتی ہے، برآمد پستول پر موجود نمبر بھی مٹا ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ گرفتاراہلکاراورملزم عمیر نے پستول مقتول کا بتایا تھا، انٹیلی جنس ڈیوٹی کے باوجود طلبا کو روکنے کی کوشش کا جواز نہیں، ممکنہ طور پر مقتول اہلکار کو اور اہلکارمقتول کو ڈاکو سمجھے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ موٹرسائیکل کو بھی چیک کیاجائےگا، پستول توحید کے ساتھی کا نکلا تو اس پر ایک اور مقدمہ درج ہوگا۔

دوسری جانب جعلی مقابلے میں جاں بحق بارہویں جماعت کےطالب علم ارسلان محسود کو سپرد خاک کردیا گیا جبکہ پولیس اہلکار کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے مقتول کے دوست کا بیان ریکارڈ کرلیاگیا ہے۔

مقتول ارسلان محسودکے قتل کا مقدمہ چچاکی مدعیت میں درج کیا گیاہے،ایف آئی آرمیں قتل،اقدام قتل اوردہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر میں پولیس اہلکار توحید ،ساتھی عمیراورمعطل ایس ایچ اواعظم گوپانگ کو نامزد کیا گیا ہے ، جس کے بعد توحید اورساتھی کو گرفتارجبکہ ایس ایچ او اورنگی کومعطل کردیا گیا ہے۔