ارطغرل آیا شیر کے ساتھ بیٹھا، پیسے لیے اور چلا گیا، اسکے لئے بس ہم ہیں، فہدمصطفیٰ


مشہور پاکستانی اداکارو میزبان فہد مصطفیٰ نے کہا ہے کہ ارطغرل بھی پاکستان آیا، پیسے لیے اور واپس چلا گیا ان کیلئے ہم یہی تھے،پاکستانیوں کے اصل فنکار ہمایوں سعید اور میں ہوں۔

ایک انٹرویو کے دوران جب فہد مصطفیٰ سے ان کے پروڈکشن ہاؤس میں بننے والے 2 مشہور ڈراموں “جلن” اور “نند” سے متعلق سوال کیا گیا جنہیں ایک طرف تو بہت زیادہ دیکھا گیا دوسری جانب ان پر بے حد تنقید بھی ہوئی اور “جلن” کو تو پیمرا نے پاکستانی معاشرے کے برخلاف بولڈ سینز، کہانی اور ڈائیلاگز کی وجہ سے بین بھی کردیا تھا۔

فہد مصطفیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “جلن” پر تنقید تو ڈرامہ نشر ہوتے ہی شروع ہوگئی تھے، اس کی کہانی تو تب سامنے بھی نہیں آئی تھی، تنقید کرنے والوں نے اس ڈرامے کو آگے بڑھنے بھی نہیں دیا اور تنقید شروع کردی، مگر تنقید صرف انہیں لوگوں نے کی جن کے اپنے دل میں چور تھا، باقی رکشے والا تھا یا چوکیدار سب کو یہ ڈرامہ خوب پسند آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایک ڈرامہ “عشق ممنوع” نشر ہوتا تھا جس میں چچی کو بھتیجے سے محبت ہوجاتی ہے، جب یہ ڈرامہ نشر ہوتا تھا تو سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں، میں نے ایسی ہی کہانی سے ملتا جلتا ڈرامہ بنایا اس کا نام جلن ہونے سے اس پر تنقید کیوں؟ ہمارے یہاں سب لوگ بہت شوق سے ڈرامے دیکھتے ہیں بس 10 سے 15 فیصد لوگوں کو ڈراموں کی کہانیوں پر اعتراض ہوتا ہے۔

فہد مصطفیٰ نے کہا کہ میرے ڈراموں کو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں، فنکار اس میں کام کرنا چاہتے ہیں ٹی وی چینلز میرے ڈراموں کو نشر کرنا چاہتے ہیں پھر میں کیوں نہ ڈرامے بناؤں، جلن اور نند میرے پراجیکٹس ہیں اور مجھے ان پر فخر ہے، ہماری انڈسٹری بحران کا شکار ہے یہاں جتنا بھی کام ہورہا ہے لوگوں کے خون پسینے سے ہورہا ہے، جو بھی چیز چل رہی ہے اسے چلنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھارت یا ترکی نہیں ہیں، یہاں ارطغرل بھی آیا شیر کے ساتھ بیٹھا، پیسے لیے اور واپس چلا گیا ان کیلئے پاکستان بس یہی تھا، پاکستان کے باسیوں کیلئے اصل فنکار ہمایوں سعید اور میں ہی ہوں۔