اسحاق ڈار کے کاروبار، جائیداد پاکستان واپسی پر جوابات بھی ٹھوس نہیں! کامران خان

انہوں نے کہا اسحاق ڈار کے الیکشن کی شفافیت سے متعلق سوالوں کے جواب غیر تسلی بخش تھے جبکہ وہ کاروبار، جائیدادوں اور پاکستان واپسی کے بھی ٹھوس جوابات نہیں دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انٹرویو اس لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل لیگی قیادت میں سے کسی کا ایسا آزاد انٹرویو نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بی بی سی کے پروگرام “ہارڈ ٹاک” کے اینکر پرسن سٹیفن سیکرڈ کے اس سوال کا حوالہ دیا جس میں میزبان سٹیفن نے پوچھا کہ ان کے باس نواز شریف کئی سالوں تک ضیاالحق کے ساتھ کام کر رہے تھے اور اب ایسا کہہ رہے ہیں، کیا یہ منافقت کے مترادف ہے؟


اس پر اسحاق ڈار کا جواب تھا کہ ’میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ یہ ارتقا کا عمل ہے۔‘

اینکر نے پوچھا کہ ’کیا یہ اس لیے ہے کہ اب وہ اقتدار میں نہیں؟‘ تو سابق وزیر خزانہ پاکستان کا جواب تھا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ ’وہ تین بار وزیر اعظم رہے ہیں۔‘ انھوں نے اس سوال پر دوبارہ وزیر داخلہ کے بیان کی مثال دی۔

اینکر نے سوال کیا کہ ہو سکتا ہے ’عمران خان اس وقت اپنی پذیرائی کھو چکے ہوں لیکن جب انھوں نے گذشتہ ماہ جلسے میں نواز شریف کا بیان سنا تو انھوں نے فوراً کہا کہ نواز شریف کی جرات کیسے ہوئی کہ ایک جنرل پر انگلی اٹھائے اور اسے پاکستان کے حالات کا ذمہ دار قرار دے، نواز شریف تو خود کئی سالوں تک فوجیوں کے جوتے چمکاتے رہا۔ یعنی اس بیان نے پاکستانی عوام میں کافی حمایت حاصل کی ہو گی جو کہ منافقت جانچ لیتے ہیں۔

اسحاق ڈار اس کے جواب میں صرف یہی کہہ سکے کہ شاید آپ نے عمران خان کے 21 ویڈیو کلپس نہیں دیکھے جن میں وہ فوج، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کو بدنام کر رہے ہیں۔اینکر کی جانب سے ان سے کہا گیا کہ نواز شریف اور آپ سزا یافتہ ہیں اور علاج کی غرض سے لندن میں بیٹھے قبل از وقت انتخابات کی بات کر رہے ہیں، تو آپ دونوں کی کیا ساکھ ہے؟

اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ عمران خان کی حکومت کی کیا ساکھ ہے؟ دنیا دھاندلی اور چوری شدہ انتخابات دیکھ چکی ہے۔ ہم نے تجربہ کیا ہے، 2018 میں رائے عامہ کے تمام جائزوں نے پیشگوئی کی تھی کہ مسلم لیگ نواز جیت جائے گی۔ لیکن مبصرین اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے انھیں تاریخ کے بدترین انتخابات قرار دیا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ ہم سے الیکشن چُرایا گیا۔

سٹیفن سیکر نے ان کو بتایا کہ ’یورپی یونین مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں الیکشن کے دوران کچھ مخصوص جگہوں پر ایک نہیں بلکہ کئی جماعتوں کی جانب سے کی گئی خلاف وزریوں کا ذکر کیا تھا لیکن مجموعی طور پر نتائج کو قابل اعتماد قرار دیا تھا۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’شاید آپ نے تمام رپورٹس نہیں پڑھیں۔‘ تو انھیں بتایا گیا کہ ’آپ اپنی مرضی سے کوئی بھی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں، ہم تو صرف آپ کو ایک آزاد اور انتہائی قابل احترام ادارے کی رپورٹ بتا رہے ہیں۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’میں شفافیت پر یقین رکھتا ہوں اور میں نے اپنے تمام اثاثے اپنے گوشواروں میں ظاہر کیے ہوئے ہیں۔ میرے پاس صرف ایک پراپرٹی ہے، پاکستان میں میرا گھر ہے جو موجودہ حکومت نے مجھ سے چھین لیا ہے۔‘


اس پر ان سے پوچھا گیا کہ ’لیکن خبروں میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کی دبئی اور لندن میں جائیدادیں ہیں۔ کیا آپ اور آپ کے خاندان کے پاس صرف ایک پراپرٹی ہے؟‘

اس پر اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ ’یہ درست نہیں۔ میرے بچوں کا صرف ایک ولا ہے جو اُن کی ملکیت ہے کیونکہ وہ 17 سال سے کاروبار کر رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے بچے آزاد ہیں اور میری سرپرستی میں نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے تفتیش سے کوئی مسئلہ نہیں۔‘

کامران خان نے بتایا کہ اسحاق ڈار 3 سال قبل تاجکستان گئے اور واپسی پر لندن گئے اور پھر علاج کی غرض سے وہیں رکے رہے اور ملک واپس نہیں آئے اس متعلق انٹرویو میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً تین سال سے لندن میں ہیں اور ان کے وکلا پاکستان میں مقدمات کو دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ انسانی حقوق کہاں ہیں؟ نیب کی حراست میں لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ درجنوں لوگوں کو مار دیا گیا ہے۔