اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے، مولانا شیرانی کا سعودی ویب سائٹ کو انٹرویو


جے یو آئی ف کے رہنما مولانا شیرانی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حامی ۔۔ مولانا محمد خان شیرانی کا کہناہے کہ پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیے۔

کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا شیرانی نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے، ذاتی طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں ہوں۔

مولانا شیرانی کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین خلافت عثمانیہ کی ملکیت تھی اس نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے، عربوں کا مقدمہ تھا انہوں نے بھی مان لیا ہے لیکن ہزاروں کلومیٹر دور اس مسئلے پر خوامخواہ کی جذباتی باتیں کی جارہی ہیں جو غیر معقول ہیں۔

اس موقع پر مولانا خان شیرانی نے مولانا فضل الرحمان کو سلیکٹڈ اور جھوٹا قرار دے دیا۔مولانا شیرانی نے کہا کہ جو جماعتیں عمران خان کو سلیکٹڈ کہتی ہیں وہ خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں وہ سلیکٹڈ ہیں یا منتخب ہیں؟

مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ میں نے آزادی مارچ کے دھرنے کے بارے میں بھی اسی وقت کہا تھا کہ جس طرح گئے ہیں اسی طرح آئیں گے۔ اس پی ڈی ایم کے بارے میں بھی میں نے کہا کہ مجھے کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا اور سودے کا بھی بظاہر کوئی ماحول نظر نہیں آتا۔

مولانا شیرانی نے مولانا فضل الرحمان کا نام لئے بغیر انہیں جھوٹا قرار دیتےہوئے کہا کہ ہماری قسمت ایسی ہے کہ علما اور قومی زعما جب ان پر صاف ستھرا جھوٹ ثابت ہوجائے تو انہیں شرمندگی نہیں ہوتی۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تو حکمت عملی ہے۔ اورجب وعدہ خلافی ان پر ثابت ہوجائے تو کھل کھلا کر کہتے ہیں کہ یہ تو سیاست ہے، رات گئی بات گئی۔ جب دھوکا ان پر ثابت ہوجائے تو پھر بڑے آرام سے تکیہ لگا کر کہتے ہیں کہ یہ تو مصلحت ِوقت ہے۔ جب خود غرضی ثابت ہوجائے تو کہتے ہیں کہ یہ تو دانائی ہے۔

مولانا شیرانی نے جمعیت علماء اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو جھوٹا قرار دے دیا اور کہا کہ فضل الرحمان ہمیشہ سے جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں، وہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کیلئے جلسے جلوس کر رہے ہیں، وہ خود سلیکٹڈ ہیں اور سلیکٹ ہو کر آئے ہیں۔

اپوزیشن کے استعفوں پر مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ استعفے نقد چیز ہیں اور نقد چیز پھینک کر ادھار کی امید پر بیٹھنا کوئی دانائی کی بات نہیں۔

مولانا اختر شیرانی نے جمعیت علما اسلام کے پرانے اور ناراض کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستان بھر میں علیحدہ دفاتر قائم کریں کیونکہ جماعت کسی کی جاگیر نہیں اور جو بھی ایسا خواب دیکھ رہا ہے وہ اس سلسلے کو بند کردے اور خواب غلفت سے جاگ جائے۔