اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا ہے کہ گردشی قرضے کا سارا معاملہ کورونا پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ایک انٹرویومیں تابش گوہر نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے حکومت کو وصولیوں کی مد میں 104 ارب روپےکا خسارہ ہوا، اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں ماہانہ اور ہر تین ماہ بعد ایڈجسٹمنٹ ہوتا ہے اگر روپے کی قیمت گرتی ہے، یا تیل اور گیس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں نیپرا قوانین کے تحت ٹیرف کو صارفین تک منتقل کرنا ہوتا ہے تاہم حکومت نے اس کو


اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا ہے کہ گردشی قرضے کا سارا معاملہ کورونا پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ایک انٹرویومیں تابش گوہر نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے حکومت کو وصولیوں کی مد میں 104 ارب روپےکا خسارہ ہوا، اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں ماہانہ اور ہر تین ماہ بعد ایڈجسٹمنٹ ہوتا ہے اگر روپے کی قیمت گرتی ہے، یا تیل اور گیس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں نیپرا قوانین کے تحت ٹیرف کو صارفین تک منتقل کرنا ہوتا ہے تاہم حکومت نے اس کو

بھی روکا جس کی وجہ سے تقریباً 250 سے 300 ارب روپے مزید خسارہ ہوا، ان عوامل کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے گردشی قرضے میں تقریباً 538 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔تابش گوہر نے کہا کہ اس وقت گردشی قرضے 2300 ارب روپے ہیں اور اس بات میں بھی شق نہیں ہے کہ گردشی قرض بڑھا تاہم رواں ماہ کے پہلے 3 ماہ میں گردشی قرضوں کی رفتار 20 فیصد کم ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ میں قطعی یہ نہیں کہتا کہ ہم نے گردشی قرض پر قابو پا لیا ہے اور ہم اس سال یا اگلے سال کے آخر میں اسے صفر پر لے آئیں گے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ کورونا سے پہلے ماہانہ گردشی قرضہ 40 ارب روپے تھا، یقینا گردشی قرضے کا سارا ملبہ کورونا پر نہیں ڈالاجا سکتا، حکومت سے بھی کوتاہیاں ہوئیں، بہتری کی بہت گنجائش بھی موجود ہے۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر عمرایوب نے دعویٰ کیا تھا کہ ماہانہ بڑھنے والا35ارب کا گردشی قرضہ دسمبر2020 میں صفر کردیا جائے گا۔