اسمبلیوں سے استعفوں پر پیپلزپارٹی میں اختلافات

کراچی: پی ڈی ایم کے فیصلے کے پیش نظر اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر پیپلزپارٹٓی میں اختلافات سامنے آگئے۔سندھ حکومت کسی صورت ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ پیپلزپارٹی نے ن لیگ اور جے یو آئی ف پر واضح کردیا۔

نجی چینل کے مطابق پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمان اسمبلیوں سے استعفے کے فیصلوں پر تقسیم ہوگئے، بعض پی پی اراکین پارلیمنٹ نے استعفے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کردیا اور کہا کہ اگر استعفے دینے کے بعد بھی حکومت نہ گئی تو ہم کیا کریں گے۔

پی پی اراکین نے موقف اپنایا کہ ہم مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کی خواہش کی تکمیل کیوں کریں؟ دوسری جماعت کے دباؤ استعفوں کا فیصلہ ٹھیک نہیں، ہمیں کسی جماعت کی خواہش کی تکمیل کے لیے قربانی نہیں دینی چاہئے، پیپلزپارٹی نے ماضی میں ہمیشہ استعفوں کی مخالفت کی۔

پی پی اراکین کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں سےاستعفی عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے ۔استعفوں کی صورت میں کارکنوں میں مایوسی پھیلے گی، استعفوں سے نتیجہ نہ نکلا تو کیا کریں گے۔

پیپلزپارٹی اراکین نے موقف اپنایا کہ پارلیمنٹ میں رہ کر حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے، استعفے کے معاملے پر پارٹی سطح پر مشاورت کی جائے۔پارٹی قیادت استعفوں کامعاملہ بطورآخری آپشن رکھے۔

پیپلزپارٹی نے اپنے تحفظات ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے سامنے رکھ دئیے جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اس حکومت کا ہرصورت خاتمہ چاہتے ہیں۔

جس پر پیپلزپارٹی نے موقف اپنایا کہ اگر حکومت کا خاتمہ ہی کرنا ہے تو تحریک عدم اعتماد لائی جائے،تحریک عدم اعتماد کیلئے جوڑتوڑ کیاجائے۔ اگر استعفے دینے ہیں تو سب سے پہلے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا استعفیٰ دیا جائے۔

پیپلزپارٹی نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر واضح کیا کہ ہم سندھ حکومت کسی صورت اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔

خیال رہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے استعفے 31 دسمبر تک طلب کیے گئے ہیں اسی سلسلے میں پیپلزپارٹی نے اراکین سے 31 دسمبر سے قبل استعفے طلب کئے ہیں۔