اسمبلیوں سے استعفے اپوزیشن کیلئے تباہ کن لیکن کیسے؟

عدیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ سینٹ الیکشنز نہ ہوں اور وہ اسے روکنے کیلئے استعفوں کی دھمکیاں دے رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے استعفوں کے اعلان پر عدیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی استعفیٰ دیتا ہے تو اسکی سیٹ پر 60 روز کے اندر الیکشن کرالیا جاتا ہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعت پیپلزپارٹی کے پاس سندھ حکومت ہے اگر لیکن اگر کوئی اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے تو 90 روز کے اندر اس اسمبلی پر الیکشن ہوجاتا ہے۔ گورنر تحلیل شدہ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ سے مشاورت کرکے نیا نگران سیٹ اپ لے آتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا اگر اپوزیشن جماعتیں استعفے دیدیں تو سینٹ الیکشن رک جائیں گے؟ اس پر عدیل وڑائچ نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اتنے ارکان اسمبلی موجود ہوں تو ہی سینٹ الیکشن ہوں گے۔ اگر اسمبلی موجود ہے تو سینٹ الیکشن ہوگا، اگر اسمبلی موجود نہیں تو 90 روز کے اندراندر اس اسمبلی کا الیکشن ہوگا اور پھر سینٹ الیکشن ہوگا۔

عدیل وڑائچ کے مطابق سینٹ کا وہ مقام ہے کہ اسے کبھی تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔ سینٹ کا الیکشن اپنے وقت پر ہونا ہی ہونا ہوتا ہے اور وہ وقت کب ہوتا ہے؟ جب سینٹ اراکین کی مدت پوری ہوجاتی ہے تو اس ایک مہینے کے اندر اندر الیکشن ہونے ہی ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اس حوالے سے بڑا کلئیر ہے کہ یہ الیکشن ہونے ہی ہونے ہیں اور ہمارے پاس دوسری کوئی آپشن نہیں ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے استعفوں کے بعد کیا ہوگا؟ اس پر عدیل وڑائچ نے کہا کہ فرض کریں اگر پیپلزپارٹی استعفے دیدیتی ہے اور دوبارہ الیکشنز کا اعلان ہوجاتا ہے تو پیپلزپارٹی کیا کرے گی؟ کیا پھر الیکشن لڑے گی؟ اگر پھر الیکشن لڑے گی تو کیا پھر وہی حاصل کرے گی جو اسے کیا ملے گا؟ اگر وہ الیکشن میں حصہ نہیں لیتی تو تحریک انصاف کیلئے میدان کھلاچھوڑدیں گے۔ اگر ن لیگ پنجاب کے حلقوں سے مستعفی ہوتی ہے اور الیکشن میں حصہ نہیں لیتی تو پنجاب میں تحریک انصاف کیلئے میدان صاف ہوجائے گا۔

عدیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن استعفے دینے کے بعد عدالتوں میں چلی جاتی ہے اور کہتی ہے کہ سینٹ الیکشن نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ الیکٹوریل کالج پورا نہیں ہے تو اسکا جواب یہ ہوگا کہ الیکٹوریل کالج کا آئین میں کوئی تصور نہیں ہے۔ استعفوں کے بعد جتنے ممبران پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہیں وہ سنگل ٹرانسفرووٹ کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے اور سینیٹر زمنتخب ہوجائیں گے۔

عدیل وڑائچ کے مطابق اگر اپوزیشن عدالت جاکر کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیدئیے ہیں اسلئے سینٹ الیکشن نہیں ہونے چاہئیں تو پوچھا جائے گا کہ آپ نے استعفیٰ کیوں دیا؟ جس پر اپوزیشن کا موقف ہوگا کہ ہم نے الیکشن 2018 میں دھاندلی پر استعفیٰ دیا جس پر عدالت ان سے پوچھے گی کہ آپ نے کتنی الیکشن پٹیشنز دائر کی ہیں؟ کتنے حلقوں کو عدالتوں میں چیلنج کیا ہے؟ کن کن فورمز پر آپ نے ثبوت دئیے ہیں؟ جو الیکشن دھاندلی پر پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی اس کے کتنے اجلاسوں میں آپ نے شرکت کی؟ کیا ثبوت دئیے؟ تو پھر جواب یہ آئے گا کہ سب سے زیادہ آئینی پٹیشنز دائر کرنیوالی خود تحریک انصاف ہے جس نے کہا ہے کہ ہمارے لوگ ہارے ہیں۔

اس پر عدالت کہے گی کہ آپ دھاندلی کے خلاف ان فورمز پر گئے نہیں، آپ سیاسی بیان بازی کررہے ہیں۔ سینٹ کا فورم نامکمل نہیں رکھا جاسکتا۔

عدیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے آئین میں ایک سیریس قسم کی آئینی شق کی بات ہی نہیں کرتے اور وہ ہے تحریک عدم اعتماد۔ تحریک عدم اعتماد کی آئین میں گنجائش ہے۔ اگر آپ اتنے پراعتماد ہیں تو تحریک عدم اعتماد لے آئے اور اپوزیشن اس کی بات ہی نہیں کرتی کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ وہاں کیا ہوگا۔

عدیل وڑائچ کے مطابق اپوزیشن کا استعفیٰ دینا انکے لئے تباہ کن ہوگا۔ اگر یہ تحریک انصاف کیلئے میدان کھلاچھوڑدیں گے تو تحریک انصاف کو دوتہائی اکثریت میں جانے کیلئے 2023 میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ استعفے دینے کے بعد حکومت جانیوالی نہیں چاہے یہ الیکشن کمیشن سے رجوع کریں یا عدالت سے رجوع کریں کیونکہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ صرف دو ہی صورتوں میں حکومت گھر جاسکتی ہے یا عمران خان استعفیٰ دیدیں یا تحریک عدم اعتماد لے آئیں اور وہ کامیاب ہوجائے ۔