الیکشن کمیشن نے سینٹ انتخابات قبل از وقت کرانے کی تجویز کو مسترد کر دیا


نجی ٹی وی چینل کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن نے حکومت کی جانب سے قبل از وقت سینیٹ انتخابات کرانے کی تجویز کو مسترد کردیا، الیکشن کمیشن نے جمعہ کے روز کہا کہ انتخابات قانون کے مطابق وقت پر ہی ہوں گے۔

یہ امر اہم ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ان کی حکومت سینیٹ انتخابات قبل از وقت کرا کے اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنا دے گی۔ کیونکہ اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ 11 مارچ کو آدھے سینیٹرز اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوں گے اور 12 مارچ کو چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا انتخاب کیا جائے گا اور اسی روز حلف بھی لیا جائے گا۔ تاہم الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کرانے کے لیے 30 دن کا اصولی وقت موجود ہے۔

الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ادارے کے پاس 11 فروری سے 11 مارچ کے درمیان انتخابات کرانے کا حق موجود ہے۔

اس حوالے سے وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنے کے لیے شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخاب کے حق میں ہیں اور اس حوالے سے وہ سپریم کورٹ سے بھی قانون پر وضاحت کے لیے رابطہ کریں گے۔