انصاف کی فراہمی میں تاخیر، شہزاداکبر ذاتی حیثیت میں طلب


اسلام آباد ہائی کورٹ نے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے معاملے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

پیر 14 دسمبر کو شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے کیس میں سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ شہزاد اکبر 24 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مسودہ دکھاتے ہوئے استفسار کیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب! بتائیں آئین کب آیا تھا؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ آئین 1973 میں آیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس آئین میں لکھا ہے جلد اور فوری انصاف ہر شہری کو فراہم کیا جائے گا۔ عدالتیں دیکھ لیں آپ نے کس حال میں بنا رکھی ہیں شہریوں کو وہاں کتنے مسائل ہیں اور فراہمی انصاف میں رکاوٹیں ریاست کی طرف سے ہوتی ہیں لیکن الزام عدالتوں پر آتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ جو رپورٹس جمع کرواتے ہیں ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اس لیے عملاً بتائیں کیا کیا؟ 10 دن کا وقت ہے کوئی عملی حل بتائیں ورنہ اعلیٰ ترین عہدیدار کو طلب کریں گے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ وفاقی دارالحکومت ہے جس کو ماڈل ہونا چاہیے تھا لیکن ریاست فوری انصاف فراہمی کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ شہزاد اکبر پیش ہوکر مطمئن کریں کیا اقدمات اٹھائے جا رہے ہیں اور بار کونسل سمیت فریقین نے جو تجاویز دی تھیں ان پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا۔