انقلابی کون۔۔۔؟؟؟


چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیا، فرما رہا تھےکہ’’ ماضی کے چور ڈاکو انقلاب کا نعرہ لگا رہے ہیں، یہ سب اپنی چوری چھپانے کے لیے واویلا کررہے ہیں، لوٹی دولت بچانے کے لیے این آر او مانگتے ہیں جوکہ کسی صورت نہیں ملے گا‘‘ ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ احتساب ہونا چاہیے، سب کا ہونا چاہیے ، اور بلا امتیاز ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ انقلابی کون ہے۔ پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انقلاب ہے کیا؟؟ میری نظر میں انقلاب کا مطلب تبدیلی ہے یعنی کہ وہ نظام جو چل رہا ہواس میں اصلاحات کر کے بہتری کی جانب قدم اٹھایا جائے۔ وہ مسائل جن کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہو ان کو آسانیوں میں بدل کر عوام کو آسائش مہیا کی جائے۔ مختصر یہ کہ نظام زندگی میں بہتری کا نام انقلاب ہے۔ لیکن ہمارے ہاں معاملہ انقلاب کی مذکورہ تعریف کے برعکس ہے۔ کچھ زمینی حقائق اور اعدادوشمار پیش کیے دیتا ہوں اور فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ حقیقت میں انقلابی ہے کون؟

قارئین 2013میں چلتے ہیں۔ آغاز پاکستان کے گروتھ ریٹ سے کرتے ہیں۔2013میں پاکستان کا گروتھ ریٹ چار اعشاریہ چار تھا ۔مہنگائی کی شرح سات اعشاریہ69 فیصد تھی۔ بیروزگاری کی شرح دو اعشاریہ95فیصد تھی۔آٹے کا تھیلا 2013میں فی کلو آٹے کی قیمت 33 روپے کلو میں فروخت ہو رہا تھا۔ انڈے فی درجن 84 روپے میں فروخت ہورہے تھے۔ پھر پانچ جون 2013 کو نواز شریف حکومت اقتدار میں آئی۔ حکومت کو آغاز میں ہی دھرنوں اور احتجاجوں کا سامنا رہا ۔126 دن تک اسلام آباد کو اپوزیشن کی بڑی جماعت نے مفلوج کیے رکھا۔ اس 126 دن کے دھرنے کے معیشت پر گہرے اثرات پڑے۔ بعد ازاں14 اگست 2014کو لاہور سے شروع ہونے والا احتجاجی سلسلہ 16 دسمبر 2014 کو سانحہ اے پی ایس کے سوگ کے باعث ختم ہوا۔ ان 126 دنوں میں حکومت کو للکارا جاتا رہا پارلیمان کو جعلی قرار دیا جاتا رہا ۔ سرکاری عمارتوں پر حملے ہوئے بڑی بڑھکیں ماری گئیں ،اسلام آباد میں نظام زندگی مفلوج ہو کررہ گیا۔یکم جون2018کو ملک میں قائم مقام حکومت نے اقتدار سنبھالا۔ اس سب کے باوجود جب نواز حکومت کی مدت پوری ہوئی تو اعدادوشمار کچھ اس طرح تھے۔

مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے اختتام پر پاکستان کو جی ڈی پی(گروتھ ڈویلپمنٹ ریٹ)پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تھا۔ ملک میں مہنگائی کی شرح سات اعشاریہ 69 فیصد سے کم ہو کر سات اعشاریہ تین فیصد پر آگئی تھی۔ بیروزگاری کی شرح دو اعشاریہ 95 سے بڑھ کر چار اعشاریہ آٹھ تک جا پہنچی تھی۔ آٹے کی فی کلو قیمت میں پانچ سال کے دوران معمولی اضافہ ہوا اور 33 روپے کلو بکنے والا آٹا قریباً 38روپے کلو میں فروخت ہو رہا تھا۔ پانچ سال کے دوران انڈوں کی قیمت 84 روپےسے 100روپے درجن تک پہنچی ۔

پھر25 جولائی کو ملک میں’’انقلاب‘‘ آیا۔’’تبدیلی ‘‘ کا سونامی آیا نعرے لگے آگیا وہ شاہکار ، تھا جس کا سبھی کو انتظار۔ عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے ریاست مدینہ پھر چائنہ اور ملائیشین ماڈل کو بھی پاکستان کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔ نوے روز میں سب بدلنے کا دعویٰ اوربعد ازاں ایک سال میں نمایاں تبدیلی کے آثار دکھانے کا بلند وبانگ دعوے کیے گئے۔ اڑھائی برس بعد یاد اوہ ہو یہ کیا ہو گیا ہماری تو تیاری ہی نہیں تھی۔ تیاری کے بغیر تو آنے ہی نہیں چاہیے تھا۔ ہمیں پہلے آئی ایم ایف کے پاس چلے جاناچاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔ اب پھر اڑھائی برس بعد’’انقلاب‘‘ کی حقیقت عوام پر کچھ اسطرح آشکار ہوئی کہ عوام کی خاموش چیخیں ہر طرف گونجنے لگیں۔ تبدیلی کا رنگ ذرا ملاحظہ کیجیے۔

2018میں5.8فیصد کی رفتار سے ترقی کرتی پاکستان کی گروتھ صفر اعشاریہ99پر آگئی۔ مہنگائی کی شرح مسلم لیگ ن کے دور کے سات اعشاریہ33 سے بڑھ کر2020میں10اعشاریہ74 پر پہنچ گئی۔ بیروزگارکی شرح چار اعشاریہ45 فیصد کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔مسلم لیگ ن کے دور میں 20کلوآٹے کا تھیلا760میں بکنے والا انقلاب کے بعد1000روپے سے بھی زیادہ میں فروخت ہوتا رہا ۔ چینی 55روپے کلو والی 100روپے سے تجاوز کر چکی تھی ۔ڈالر کی قیمت100سے 160تک جا پہنچی تھی۔ 100روپے درجن والے انڈوں کی قیمت 216 روپے درجن ہو چکی ہے۔ سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ مگر منطق ایک ہی ہے سب کے ذمہ دار سابق حکمران تھے۔ اڑھائی سال بعد حکمران کہیں انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار سلمان شہباز ہے جو کہ اڑھائی سال سے بیرون ملک ہے بات بڑی عجب سی لگتی ہے۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ مہنگائی کیوں ہے تو کہا جاتا ہے بندہ تو ایماندار ہے ۔ اور پھر کہا جاتا ہے ہمیں تومعلوم ہی نہیں تھا صورتحال یہ ہے۔

اب ساری صورتحال اور اعدادوشمار کا جائزہ کے بعد یہ سوال قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ آخر انقلابی کون۔۔۔؟؟؟

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ “03009194327” پر بھیج دیں.