اومی کرون ، حکومت کا بیرون ملک میں موجود پاکستانیوں کے حوالے سے بڑا فیصلہ


اسلام آباد : این سی او سی نے کیٹگری سی ممالک میں موجود پاکستانیوں کو 31 دسمبر تک واپس آنے کی اجازت دے دی تاہم ویکسین سرٹیفکیٹ،ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرائط پوری کرنی ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اومی کرون کے خطرے کے پیش نظر کیٹگری سی ممالک میں موجود پاکستانیوں کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا۔

این سی اوسی کا کہنا ہے کہ کیٹگری سی ممالک میں موجود پاکستانی 31 دسمبر تک واپس آ سکتے ہیں ، مستند نائیکوپ اور پی اوسی کے حامل افرادواپس آسکیں گے تاہم ویکسین سرٹیفکیٹ،ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرائط پوری کرنی ہوں گی۔

این سی اوسی کے مطابق واپس آنے والے پاکستانیوں کو کورونا پروٹوکولز پر عملدرآمد کرنا ہو گا ، کیٹگری سی ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کو مکمل ویکسی نیشن کرانا ہو گی۔

کیٹگری سی ممالک سے آنے والے منفی پی سی آر ٹیسٹ کرانے کے پابند ہوں گے جبکہ امی کرون والے ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کیلئے قرنطینہ لازم ہو گا۔

این سی او سی کے مطابق بیشترممالک میں 15 سے 18 سال کے بچوں کی ویکسی نیشن شروع نہیں ہوئی، 15 سے 18سال کے بچوں کے لیے ویکسیشن کی شرط میں نرمی کردی گئی، 15سے 18سال کے بچوں کو31 جنوری 2022 تک سفر کی اجازت ہوگی۔

یاد رہے گذشتہ ہفتے این سی اوسی نے اومی کرون کے خطرے کے پیش نظر مزید نو ممالک کو کیٹیگری سی میں شامل کردیا تھا ، جس کے بعد کیٹ سی لسٹ شامل ممالک کی تعداد پندرہ ہوگئی تھی تاہم پاکستان آنیوالے مسافر کورونا پروٹوکول پر عمل کے پابند ہوں گے۔

این سی اوسی کا کہنا تھا کہ کیٹ سی ممالک سے آنے والوں کو ایگزمشن کمیٹی سے ایگزمشن سرٹیفکیٹ لینا ہوگا اور پاکستان آنے والے افراد کیلئے مکمل ویکسی نیشن اور 6 سال سے زائدعمر افراد کیلئے کورونا پی سی آر ٹیسٹ لازم ہے۔