او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس شروع، اسلام آباد مرکز نگاہ


اسلام آباد: افغانستان کی صورتحال پر اسلامک ممالک کی پاکستان میں اہم بیٹھک، اکتالیس سال بعد پوری مسلم امہ اسلام آباد میں جمع ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق اوآئی سی کی وزرائےخارجہ کونسل کا سترواں غیرمعمولی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں شروع ہوگیا ہے، اجلاس سعودی عرب کی جانب سے طلب کیا گیا ہے جبکہ میزبانی کے فرائض پاکستان انجام دے رہا ہے۔

پوری دنیا کی نظریں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس پر مرکوز ہیں، وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں شریک ہیں اور افتتاحی سیشن سے خطاب کرینگے، جس میں وہ مسلم امہ اور پاکستان کا اہم پیغام عالمی برادری اور اقوام عالم کےسامنے پیش کریں گے۔

اوآئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں 70 وفود شریک ہیں، جس میں مختلف اسلامی ممالک کے 20 وزرائے خارجہ اور 10 نائب وزرا شریک ہیں اس کے علاوہ غیر رکن ممالک اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں بھی شریک ہیں۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی بھی اجلاس میں شریک ہیں، اس کے علاوہ سعودی عرب، ترکی، ایران ،ملائشیا، انڈونیشیا، بوسنیا، آذربائیجان، بنگلا دیش، قازقستان، ترکمانستان کےوزرائے خارجہ سمیت فلسطین،اردن،صومالیہ،گمبیا، سیرالیونی اورگبون کےوزرائےخارجہ بھی شریک ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی نمائندۂ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ملک چین، امریکا،برطانیہ، روس اورفرانس کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

او آئی سی اجلاس کیلئے وفاقی دارالحکومت کوبرقی قمقمقوں سے سجایا گیا، شاہراہیں برقی قمقموں سے جگمگا اٹھیں جبکہ شہر اقتدار میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پانچ ہزار سے زائد مستعد اہلکاروں کو ڈیوٹیوں پر تعینات کیا گیا ہے۔