آر ہوا نہ پار ہوا، نہ مریم کا مطالبہ مانا گیا، نہ پریس کانفرنس میں بولنے کا موقع ملا

آر ہوا نہ پار ،مریم نواز کا مطالبہ پی ڈی ایم اجلاس میں مانا گیا نہ پریس کانفرنس میں بولنے کا موقع ملا۔ مریم نواز نے ے 6دسمبر کو خطاب میں 8دسمبر کو آر یا پار ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ استعفے چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے دئیے جائیں گے۔ البتہ سینیٹ سے استعفے نہیں دیے جائیں گے۔تمام اراکین اسمبلی اپنے اپنے استعفے 31 دسمبر تک اپنے پارٹی قائدین کو جمع کرائیں گے

ذرائع کے مطابق مریم نواز کی خواہش ادھوری رہ گئی ،سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا پی ڈی ایم نے مریم نواز کا بیانیہ مسترد کر دیا؟ کیا مریم نواز کی خواہش ادھوری رہ گئی؟ کیا ایک میز پر بیٹھنے والے ایک پیج پر نہ آسکے؟۔

آر یا پار کا نعرہ لگانے والی مریم نواز کو لاہورجلسے کی فکر رہی ۔ مریم نواز نے پی ڈی ایم اجلاس میں تجویز پیش کی کہ لاہور کا جلسہ کامیاب بنائیں، لاہور کا پاور شو کامیاب ہو گیا تو پھر سب کچھ کرنا آسان ہوگا۔

مریم نواز نے 6 دسمبر کو دعویٰ کیا تھا کہ پی ڈی ایم بڑے بڑے فیصلے کرنے جارہی ہے،8 دسمبر کو آر یا پار ہوگا ۔ عوام انتظار کرتے رہے لیکن نہ آر ہوا نہ پار ہوا جس پر مریم اورنگزیب کو یہ کہنا پڑا کہ مریم نواز نے ایسی کوئی بات ہی نہیں کی۔

مریم نواز کو پریس کانفرنس میں بات کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا،پی ڈی ایم کی پریس کانفرنس میں فضل الرحمٰن نےگفتگوکی اورچلتے بنے ۔ مریم نواز نے کچھ کہنا چاہا مگر کہہ نہ سکیں، آواز لگائی مگرا فتخار حسین نے روک دیا۔

پریس کانفرنس میں جو ہوا اس کا غصہ مریم نواز نے صحافیوں پر نکال دیا، مریم نواز گاڑی میں سوار ہونے لگیں تو صحافی نے پوچھا مریم صاحبہ آج آپ ڈیفینسو موڈ میں ہیں، مریم نواز کو سوال پسند نہ آیا تو مریم نواز نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈیفنیسو موڈ میں نہیں اٹیک موڈ میں ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ، پہلی ملک گیر پہیہ جام ہڑتال اور شٹرڈاؤن کرنے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن سوال یہ ہوتا ہے کہ کرونا وبا میں جہاں تاجروں اور دکانداروں کے کاروبار متاثر ہیں کیا وہ پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں گے؟ اگر کیا تاجر برادری پی ڈی ایم کیلئے غیر معینہ شٹرڈاؤن ہڑتال کرے گی؟