آسٹریلوی کھلاڑی نے کورونا کی بگڑتی صورت حال کے سبب آئی پی ایل پر سوالات اٹھا دیئے


بھارت میں کورونا وائرس کے باعث دن بدن ابتر ہوتی صورتحال نے ناصرف معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ ملک میں جاری کرکٹ کی سب سے بڑی لیگ بھی متاثر ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں راجستھان رائلز ٹیم کی نمائندگی کرنے والے آسٹریلوی فاسٹ باؤلر اینڈریو ٹائی نے کورونا کی بگڑتی صورت حال کے سبب ایونٹ پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

لیگ چھوڑ کر اپنے وطن واپس لوٹنے والے اینڈریو ٹائی نے اعتراض کیا ہے کہ بھارت میں کورونا کے مریضوں کو علاج کے لیے اسپتال نہیں مل رہے تو کمپنیاں اور کارپوریٹ ادارے آئی پی ایل پر اتنا خرچ کیوں کر رہے ہیں؟ جب ملک میں صحت کا نظام اتنا بڑا مسئلہ تھا تو فرنچائز نے کرکٹ پر اتنے پیسے خرچ کیسے کیے۔

آسٹریلوی کھلاڑی نے کہا ہر شخص کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور میں سب کی سوچ کا احترام کرتا ہوں، انڈین پریمیئر لیگ میں کھلاڑی محفوظ ہیں، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ اس مہلک وباء سے کب تک محفوظ رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی پی ایل سے لوگوں کے درمیان وبا کا خوف اور پریشانی کم ہورہی ہے تو اسے جاری رکھنا چاہے لیکن بھارتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو متعلقہ ادارے، فرنچائز، کمپنیاں اور حکومت ایسے وقت میں کرکٹ پر پیسے خرچ کررہی ہے جب یہاں مریضوں کو علاج کے لیے اسپتال نہیں مل رہے ہیں۔

اینڈریو ٹائی نے بتایا کہ جب وہ آئی پی ایل چھوڑ کر اپنے آبائی شہر لوٹے تو بھارت میں کورونا کی خراب ہوتی صورتحال کی خبریں موصول ہوئیں جس کے باعث انہیں قرنطینہ کردیا گیا۔

انہوں نےمزید کہا کہ مجھے ڈر تھا کہ شاید مجھے بھی اپنے شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، میں نے سوچا تھا کہ آئی پی ایل کے اختتام پر مجھے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے مسلسل چھٹے روز تین لاکھ سے زائد کیسز سامنے آئے جن میں 3 لاکھ 23 ہزار سے زائدا فراد کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی جب کہ مزید 2771 افراد ہلاک ہوگئے۔

بھارت میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد ایک کروڑ 76 لاکھ 36 ہزار سے زائد ہوگئی ہے جب کہ اموات ایک لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہیں۔