اٹارنی جنرل کی ثاقب نثارکی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کرنے کی مخالفت


اسلام آبد : اٹارنی جنرل آف پاکستان نے ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کی مخالفت کر دی اور کہا ہم جس راستے پر چل پڑے ہیں، بہت ہی خطرناک ہے، اس معاملے کو پارلیمنٹ میں جانا چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

وکیل نے کہا سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیو ٹیپ نےعدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچایا ،عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئےاس بات کا تعین ضروری ہے کہ آڈیو اصلی ہے یا جعلی، مبینہ آڈیو ٹیپ سے تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ بیرونی قوتوں کے پریشر میں ہے۔

وکیل نے مزید دلائل میں کہا عدلیہ کو اپنے نام کے تحفظ کے لیے آزاد خودمختار کمیشن تشکیل دینا چاہیے،عوام کا آزاد ،غیر جانبدارعدلیہ پراعتماد بحال کرنا ضروری ہے، اچھی شہرت کے حامل افراد پر مشتمل آزاد خود مختار کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے اور آڈیو ٹیپ پر کمیشن بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ پر کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں، ہم جس راستے پر چل پڑے ہیں، بہت ہی خطرناک ہے، اس معاملے کو پارلیمنٹ میں جانا چاہئے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کو سوشل میڈیا نہیں دیکھنا چاہئے، درخواست گزار درخواست قابل سماعت ہونے پردلائل دیں، اٹارنی جنرل نےخود کہا معاملے کو پارلیمنٹ جانا چاہئے، جس پر صلاح الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کابینہ نے مبینہ آڈیو ٹیپ پررائے دےدی ہے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت 24 دسمبر تک کیلئےملتوی کر دی