اپوزیشن کی فوجی قیادت سے خفیہ ملاقاتوں کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں؟ سینئر صحافی کامران خان کے تہلکہ خیز انکشافات

0
91


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نامور تجزیہ نگار اور صحافی کامران خان کا اپنے فیس بک پیج پر جاری ویڈیو پیغام میں اپوزیشن اور اداروں کی خلوت کی ملاقاتوں کی بند کمروں کی دلچسپ کہانی بتا`تے ہوئے کہنا تھا کہ آپ لوگ دو روز سے اپوزیشن اور آئی ایس آئی کی چھتری تلےمکمل خفیہ اے پی سی کے احوال سن رہے ہیں، آپ کے اطمینان کے لیے یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ جب اپوزیشن کی اے پی سی میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کے حکومت کے خلاف الزامات کے بارے میں سنتے ہیں تو انہیں ان سنا کر دیا کریں۔کیونکہ جب

یہی اپوزیشن والے ہمارے خفیہ اداروں کے ساتھ خلوت میں ہماری سوچ سے بھی زیادہ بار ملتے ہیں تو ان لب و لہجہ میں سوفیصد تبدیلی نظر آتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ میں خود ان خفیہ ملاقاتوں کے حوالے سے اچھی طرح واقف ہوں اور اسکے واضح ثبوت بھی موجود ہیں ، فوجی لیڈر کو لالچ دے کر عمران خان سے بددل کر کے اپنی جانب راغب کیا جائے اور بتایا جائے کہ وہ عمران خان سے زیادہ اچھی چوائس ہیں۔پیپلزپارٹی کے آصف زرداری ہوں یا ن لیگ کے شہباز شریف یا خواجہ آصف ہوں سب کی خلوت کی ملاقاتوں کے لیے خفیہ اداروں سے نیب کے کیسز اور اپنی ٹاپ لیڈرشپ کی چغل خوری کے حوالے سے ملاقات کے لیے درخواست رہتی ہے۔ان لوگوں کی گفتگو اتنی مزیدار ہوتی ہے کہ اگر آپ لوگ سنے تو ہنستے ہنستے دوہرے ہو جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خلوت کی ملاقات میں اسی اپوزیشن کی لیڈرشپ کی حکمت عملی سمجھ آتی ہے کہ کیسے پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی حتمی اکثریت نہ ہونے کے باوجود قومی اہمیتکے قریب اہم قوانین منظور کروائے جاتے ہیں اور کیا یہ معجزہ نہیں تھا کہ سینیٹ میں فیصلہ کن اکثریت کے باوجود چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔انہوں نے اپوزیشن والوں سے درخواست کی ہے کہ اعلانیہ بھی فوجی اداروں کے بارے میں وہی لب و لہجہاستعمال کریں جو وہ خفیہ ملاقاتوں میں کرتے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ کسی کو غصہ آ جائے اور سانجھے کی ہانڈی چوراہے میں پھوٹ جائے، اپوزیشن اور اداروں کا ایک دوسرے کے ساتھ مزاج بہت اچھا ہے اور یہ صرف بھارت کے لئے بہت برا ہے جبکہ پاکستان کے لیے بہت اچھا ہے۔