ایف آئی نے تحقیقات میں علی ظفر کےخلاف جنسی ہراسگی اورکردار کشی کی مہم پرمیشا شفیع کو قصور وار قرار دیدیا


لاہوراداکار و گلوکار علی ظفر کےخلاف جنسی ہراسگی اورکردار کشی کی مہم پرمیشا شفیع قصوروارقراردیدی گئیں،ایف آئی اے نے میشا شفیع کی سوشل میڈیا مہم کو جھوٹا قراردیدیا،سائبر کرائم ونگ نے میشا شفیع سمیت8 افرادکو جھوٹی مہم پر قصواوار قراردیدیا۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق ایف آئی اے نے عبوری چالان لاہورکی عدالت میں جمع کرا دیا،سائبر کرائم ونگ نے میشا شفیع سمیت8 افراد کےخلاف کارروائی کی درخواست دیدی،عبوری چالان میں کہاگیا ہے کہ گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسگی کے ہتک آمیزالزامات لگائے،علی ظفر نے توہین آمیز مہم پر2018 میں ایف آئی اے کو میشا شفیع کےخلاف درخواست دی،میشا شفیع الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی گواہ پیش نہ کرسکیں،میشا شفیع سمیت 8 افراد الزامات پر ایف آئی اے میں کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے،عبوری چالان میں میشا شفیع ،عفت عمر ،علی گل پیرسمیت8 افراد قصوروارقرار دیئے گئے ہیں ،چالان میں ماہم جاوید،لیناغنی،حیسم الزمان، فریحہ ایوب اورفیضان رضاکو بھی قصوروار قراردیاگیاہے۔

ڈیجٹل رائٹس اکٹوسٹ اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم پاکستان شہری نگہت داد نے اس معاملے پر اپنے رائے کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ “یہ عدالت کا اختیار ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ مواد توہین آمیز تھا اور اس کے مطابق نوٹس لینا ہے ، ایف آئی اے کا کام صرف اتنا ہے کہ” پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ “ کے قانون کے تحت جرم کی تحقیقات کرے ، کسی کو مجرم ٹھہراناایف آئی اے کا کام نہیں ، اس حوالے سے چلائی جانے والی خبریں گمراہ کن ہیں ۔”