ایف اے ٹی ایف اجلاس، فرانس پاکستان کا بھارت سے بڑا مخالف بن کر کیوں سامنے آیا؟


ایف اے ٹی ایف اجلاس۔۔ فرانس پاکستان کا بھارت سے بھی بڑا مخالف بن کر کیوں سامنے آیا؟ وجہ سامنے آگئی۔

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے عمل میں فرانس رکاوٹ بن گیا, ایف اے ٹی ایف میں فرانس پاکستان کا بھارت سے بڑا مخالف بن کر سامنے آگیا۔

بی بی سی کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کے روایتی حریف بھارت سے بھی زیادہ یورپی ملک فرانس نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کی شدید مخالفت کی ہے۔

فرانس کی جانب سے پاکستان کی کھل کر مخالفت کے پیچھے فرانس کے بھارت کے ساتھ ہونے والے دفاعی آلات کی فراہمی کے معاہدے ہیں یا حالیہ مہینوں میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ نمائش پر پاکستانی حکومت کا ردعمل وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب پاکستان کے ممتاز سفارت کار اور سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ نے بی بی سی سے گفتگومیں بتایا کہ فرانس بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدوں کو بڑھانے کی غرض سے ایسے کام کر سکتا ہے جس سے اس بھارت خوش ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے پاکستان کے حوالے سے بھارت اور فرانس ایک ہی صفحے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے حوالے سے فرانس کے رویے کو بھارت کے ساتھ اسکے دفاعی سازو سامان کی فروخت کے روشنی میں دیکھا جائے تو فرانس کی مخالفت کی وجہ سمجھ آتی ہے۔

بھارت نے حال میں فرانس سے دفاعی پیداوار کے متعدد معاہدے کیے,جن میں جدید جنگی طیارے رافیل کا سودا بھی شامل ہے۔

نجم الدین شیخ کے مطابق پاکستان کو اپنی صورت حال کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور اس غرض سے اسے یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات پر توجہ دینی چاہیے, کئی بار فرانس کی پالیسی یورپی یونین کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی ادارے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس نے 25 فروری کو ختم ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کو اس لسٹ سے نکلنے کیلئے مزید تین نکات پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔

فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو تین سفارشات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اس لیے اسے جون 2021 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے۔ جون کے اجلاس میں غور کیا جائے گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے یاڈو مور کا مطالبہ کیا جائے۔

پاکستان کو2018 میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 40 سفارشات میں سے صرف 13 پر پوری کیں,اور اسے 27 سفارشات پر عملدرآمد کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔