ایف پی ایس سی نے چوکیدار کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر لگا دیا! سپریم کورٹ


سپریم کورٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ملازمین کی پروموشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے کیس رولز کی درستگی کے لیے سروس ٹربیونل کو بھجوا دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا ایف پی ایس سی اتنا فالتو ادارہ ہے کہ اس نے چوکیدار کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر لگا دیا؟ کیا اس ادارے کے چوکیدار ہی سی ایس ایس کا امتحان لیتے ہیں؟

ایف پی ایس سی بڑا ادارہ ہے، اس طرح تو اتنے بڑے ادارے میں سازش ہوئی ہے، آپ نے ان پڑھ آدمی کو ایف پی ایس سی کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر لگا دیا ہے۔

3 رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروموٹ ہونے کے لیے صرف لکھنا پڑھنا جاننا کافی ہے؟

جس پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی رپورٹ میں دیے گئے رولز کے مطابق پروموشن کے لیے ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا کے ٹیچرز کو بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کر لیں۔