ایل این جی کیس: شکایت کرنےوالےکو عدالت میں پیش کریں


سابق وزيراعظم شاہد خاقان عباسی نے ايل اين جی کيس ميں شکايت کرنے والے کو عدالت ميں پيش کرنے کی درخواست کردی۔

سابق وزیراعظم نے احتساب عدالت کے باہر ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ پٹروليم ميں ہمت ہے تو بتائے کہ ايل اين جی ٹرمينل پر سالانہ کتنی ادائيگی ہے۔ جو ادائيگی حکومتِ پاکستان نہيں صارفين کی جيب سے لی جاتی ہے۔

شاہد خاقان نے مزید کہا کہ ايل اين جی سے چلنےوالے وفاقی وزير کے پاور پلانٹ کی بچت کيا ہے؟اس قسم کے15پاور پلانٹ اس ٹرمينل سے چل سکتے ہيں، وزارتِ پٹروليم نے شکايت نہيں کی، ہمت ہے تو سوالوں کے جواب دے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جانوروں کے ڈاکٹر کو ڈی جی آئل لگاديا گيا، حکومت بتائے رواں سال ايل اين جی کی درآمد ميں کتنا نقصان ہوا؟، آزاد ذرائع کہتے ہيں 122ارب کانقصان ہوچکا ہے۔

شاہد خاقان نے سوال اٹھاتے ہوئے وزارت پیٹرولیم سے پوچھا کہ جنوری میں 25ارب اضافی ادا کررہے ہيں؟ کيا يہ ملک کا نقصان نہيں؟ کيس چلتے ہوئے ڈھائی سال ہوگئے،جس نےشکايت کی اسے پيش کريں۔