این اے 249 :پی ٹی آئی امیدوار امجد آفریدی سے متعلق اہم فیصلہ، شہزاداعوان ڈٹ گئے


این اے 249 ضمنی الیکشن کے سلسلے میں ناراض ایم پی اے ملک شہزاد اعوان کو منانے کے لیے پارٹی راہنماؤں کی اہم بیٹھک ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ناراض ایم پی اے کو منانے کے لئے اہم میٹنگ ہوئی جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل اور پارٹی عہدے داران نے ایم پی اے شہزاد اعوان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پارٹی راہنماؤں نے شہزاد اعوان کے گلے شکوے اور تحفظات سنے گئے۔

شہزاد اعوان ملاقات میں بھی اپنے مؤقف پر ڈٹے رہےاور انھوں نے نامزد امیدوار امجد آفریدی کو کمزور امیدوار قرار دیا جس پر گورنر سندھ نے ملک شہزاد کو پیش کش کی کہ این اے 249 کی انتخابی مہم کی قیادت آپ کریں، اس پر ملک شہزاد نے یہ کہہ کر پیشکش مسترد کردی کہ اگر امیدوار امجد آفریدی ہوگا تو وہ نہ مہم چلائیں گے اور نہ ہی قیادت کریں گے۔

گورنر سندھ نے ملک شہزاد کو اسپیکر سندھ اسمبلی کو استعفی جمع نہ کروانے کی ہدایت کی جس پر انہوں نے کہا استعفیٰ جمع کرانے کا فیصلہ حتمی امیدوار کے نام کے اعلان کے بعد کروں گا۔

دوسری جانب تحریک انساف نے این اے 249 کے امیدوار امجد آفریدی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کی نظر ثانی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں امجد آفریدی کو این اے 249 حلقے سے امیدوار برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب خرم شیرزمان کا کہنا ہے کہ نظرثانی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے امیدوار امجد آفریدی ہی ہوں گے۔امجد آفریدی نے زیادہ تر پوائنٹس کو محفوظ کیا، وہ مقامی رہائشی ہیں، پارٹی کے ساتھ 16 سالوں سے منسلک ہیں۔

واضع رہے کہ ملک شہزاد اعوان نے این اے 249 کے امیدوار پر تحفظات پر استعفیٰ دیا تھا۔