ایک غلطی سے پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا، تہلکہ خیز انکشافات


نیپرا نے 9 جنوری کو پاکستان بھر میں بجلی کے بلیک آؤٹ کی تحقیقات پر مبنی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق بریک ڈاؤن گدو پاور پلانٹ اور سوئچ یارڈ کے ‏درمیان سرکٹ کی تبدیلی کے دوران ہوا۔ بریک ‏ڈاؤن سے بڑی ٹرانسمیشن لائنز ٹرپ کرگئیں۔

رپورٹ کے مطابق شمال اورجنوب میں بجلی کا لوڈ ‏غیر‏متوازن ہوگیا۔ نیپرا نے گدو پاور پلانٹ انتظامیہ کی غفلت، عملے کی تکنیکی تربیت ‏کی کمی اوراین ٹی ڈی سی کے بوسیدہ نظام کو بریک ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوب میں شمال کی نسبت بجلی کی پیداوار زیادہ تھی۔ غیر متوازن ‏پیداوار سے مکمل بریک ڈاؤن کی صورتحال بنی۔

این ٹی ڈی سی مجموعی طور پر 22 ‏گھنٹے میں بجلی بحال کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ بجلی بحالی پرفوری کام شروع ہوا تاہم کچھ پاور پلانٹس کو بحال کرنے ‏میں دیر لگی۔


نیپرا نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے پاور پلانٹس گیس کی کمی کے باعث بند تھے۔ کے الیکٹرک ‏نے بھی ٹپال اورگل احمد پاورپلانٹس کو چلانے کی کوشش کی۔ زیادہ تر پاور پلانٹس27 ‏گھنٹے کے اندر ٹرانسمیشن لائن سے کنیکٹ ہوگئے۔

جب کہ پن بجلی کے پاور پلانٹس نے20 ‏گھنٹے میں پیداوارشروع کی۔ کے الیکٹرک کے پاور پلانٹس کی بجلی 17 گھنٹوں میں ‏بحال ہوئی۔

نیپرا نے ہدایت کی ہے کہ عملے کی تکنیکی تربیت پر توجہ دی جائے اس کے علاوہ رپورٹ میں ٹرانسمیشن لائنز کی مرمت کی بہتری اور ترسیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی تکنیکی بنیاد پر حل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔