برطانوی وزیراعظم کی لاعلمی، بھارتی کسانوں کا احتجاج بھارت پاکستان تنازع بناڈالا

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے لاعلمی کا ریکارڈ قائم کردیا، مودی سرکار کیخلاف کسانوں کے احتجاج کو پاکستان اور بھارت کا درمیان تنازع قرار دے دیا، جس پر مذاق اڑایا جانے لگا،

معاملہ کچھ یوں ہوا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن سردار تنمن جیت سنگھ نے پارلیمنٹ کی توجہ بھارت میں کسانوں پر ہونے والے مظالم کی طرف دلاتے ہوئے بتایا کہ بھارتی پنجاب اور مختلف شہروں میں پرامن کسانوں پر آنسو گیس کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وزیراعظم بورس جانسن کو فوری طور پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کرنی چاہیے،جس پر برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کیا ہو رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت اپنے معاملات کو فوری طور پر حل کریں۔

دوسری جانب کسانوں نے مودی سرکار کے متنازع زرعی قوانین کو نا منظور کردیا ہے، جس کے باعث بھارت میں کسانوں کا احتجاج پندرہویں روز میں داخل ہوگیا ہے، مودی حکومت اور کسانوں کے مذاکرات کا پانچواں دور بھی ناکام رہا،کسانوں نے حکومتی ڈرافٹ مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر پیر کو دہلی چلو مارچ کا اعلان کردیا۔

دہلی اور دہلی آگرہ ایکسپریس وے ہفتے کو بلاک کرنے کی تیاری کرلی گئی ہیں، شدید سردی کے باعث ایک اور کسان کی موت ہوچکی ہے، اب تک پانچ کسان ہلاک ہوچکے ہیں، کینیڈین وزیراعظم نے ایک بار پھر بھارتی کسانوں کے احتجاج کی حمایت کردی کہا دنیا کے کسی بھی کونے میں پرامن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکہ سمیت کئی ممالک میں بھارتی کسانوں کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں،مودی سرکار نے ستمبر میں زرعی اصلاحات کے نام پر کالا قانون منظور کیا تھا، جس کے خلاف یہ احتجاج کیا جارہا ہے۔