بشریٰ انصار ی شوہر سے طلاق سے قبل کس طرح رہتی تھیں ؟ خاتون صحافی نے انکشاف کر دیا


لاہور خاتون صحافی مہرین سبطین نے حال ہی میں بشریٰ انصاری کی طلاق اور نئی شادی سے متعلق چلنے والی افواہوں سے پردے ہٹاتے ہوئے حقائق بیان کر دیئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق یوٹیوب چینل پر جاری اپنی ویڈیو میں مہرین سبطین کا کہناتھا کہ میں نے کچھ ویڈیوز دیکھیں جن میں کہا جارہا تھا کہ بشریٰ انصار ی کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی ہے ، اس طرح کی عجیب و غریب خبریں گردش کر تی رہیں لیکن اداکارہ نے خاموشی اختیار کی ۔بشریٰ انصاری نے ایک حالیہ انٹرویو میں طلاق کی وجوہات بیان کی ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے نوجوانوں کو مشورے بھی دیئے ہیں ۔

مہرین سبطین کا کہناتھا کہ میری بشریٰ انصاری کے ایک قریبی فیملی ذرائع سے بات ہوئی ہے جن کی باتیں سن کر میں حیران رہ گئی کہ انسان اپنے رشتے کو نہ چاہتے ہوئے بھی کس طرح نبھاتا ہے ۔اس فیملی ذرائع کا تعلق بشریٰ انصاری کے شوہر کے ساتھ ہے ۔


مہرین کا کہناتھا کہ میں پہلے وہ باتیں بتانا چاہتی ہوں جو بشریٰ انصاری نے اپنے انٹرویو میں کہیں ،بشری انصاری نے انٹرویو میں کہا کہ 36 سال کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں الگ ہوجانا ہے، لیکن یہ فیصلہ 36 سال بعد نہیں لیکن یہ شادی کے تین ماہ بعد ہی ہوچکا تھا۔ وہ اندر اپنے طے کرچکی تھیں یا وہ سمجھ چکی تھیں کہ میں اس شخص کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتی۔

بشریٰ انصاری کے والد پہلے فلم کے بورڈ کے ڈی جی تھے، ضیاءالحق کامارشل لاءلگا تو اس کے بعد تھوڑی پریشانیاں آئیں اور فلم وغیرہ کے حوالے سے تحفظات ،سنسرشپ پالیسی تھی تو پھر انہیں ایک مشکل مالی حالات کے دور سے گزرنا پڑا۔ ایسے میں جب بشریٰ کی شادی ہوئی اور تین ماہ بعد انہیں معلوم ہوا کہ ہماری عادات اور اطوار آپس میں نہیں ملتے تو انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ میں اس شخص کے ساتھ گزارا نہیں کرسکتی لیکن ان کے والد صاحب کے حالات اچھے نہیں تھے ،انہیں لگا کہ مجھے اس شادی کو جاری کرنا چاہیے اور اس کے بعد جب انہیں علم ہوا کہ ان کے ہاں اولاد کی ولادت متوقع ہے تو اس شادی کو جاری رکھا۔

شادی کے بعد بشریٰ انصاری کے گھر دو بیٹیاں ہوئیں ، وقت آہستہ آہستہ گزرنے لگتا ہے، تلخیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں، اداکارہ سوچتی تھی کہ میں نے سوچا کہ طلاق کے بعد میری زندگی میں کیا ہوگا؟انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا کہ میری بعد کی زندگی کیا اس شخص سے الگ ہونے کے بعد کی زندگی آسان ہوگی۔ شاید میری لیے آسانیاں ہوں گی لیکن میری دو بیٹیوں کے لیے مشکلات ہوں گی۔ میرے لیے مشکلات کو میں برداشت کرلیتی ہوں لیکن میں ان دو بچیوں کی زندگی کو آسان بنالیتی ہوں۔بشریٰ انصاری نے بچوں کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے خوبصورت فیصلہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بچیوں کو بڑا کیا، ان کو اپنی زندگیوں میں سیٹل کیا، ان کی شادیاں کیں او ران کے بچے بھی ہوگئے اور اب میں الگ ہوگئی۔ بہت سے لوگوں نے سوالات کیے کہ اگرچہ بچیوں کی شادی کردی تھیں، وہ سیٹل ہوگئے آپ اسی وقت طلاق لے لیتیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 36 سال گزارے اور طلاق لی۔ بشری انصاری نے واضح کیا کہ طلاق مجھے دی نہیں گئی بلکہ طلاق میں نے دی ہے۔

بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے، ہمارے قوانین اور شرعی قوانین کے مطابق خاتون کو تو طلاق دینے کا حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے والد کی بہن کے ساتھ بھی کچھ اس طرح کے حالات ہوئے تھے اور ان کے لیے بھی بڑی پریشانیاں اٹھانی پڑی تھیں اس لیے میری شادی کے وقت یہ چیز یقینی کی گئی تھی کہ میں خود بھی طلاق اپنے شوہر کو دے سکتی ہوں۔

اب لوگ کہتے ہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے، لیکن بہت سے لوگ جانتے ہوں گے لیکن جو نہیں جانتے ان کے لیے کہ جب نکاح نامہ آپ سائن کرتے ہیں تو وہاں پر ایک شق موجود ہوتی ہے کہ جس میں لکھا ہوتا ہے کہ میں طلاق کا حق اپنی بیوی کو تفویض کرتا ہوں (یعنی کے اپنی بیوی کو اجازت دیتا ہوں کہ وہ مجھے طلاق دے سکتی ہے) اگر اس کالم کو ٹک کردیا جائے تو اس کے بعد قانونی لحاظ سے عورت کے پاس یہ حق موجود ہوتا ہے۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ البتہ یہ حق میرے والد نے مجھے دلوادیا تھا میری شادی کے وقت، اس لیے یہ طلاق مجھے نہیں دی گئی یہ طلاق میں نے خود دی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس میں کسی کی عزت اور بے عزتی کا معاملہ نہیں ہے۔بشریٰ انصاری نے اپنے سابق شوہر کیلئے اچھے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ان کا ذکر کیا ۔ اور کہا کہ اس کو ہم نے باہمی رضا مندی سے فیصلہ کیا کہ اب ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ 1978ءمیں ہونے والی شادی اپنے اختتام کو پہنچی۔

مہرین سببطین کا کہناتھا کہ قریبی رشتہ دار جن کا تعلق بشریٰ کے سابقہ شوہر انصاری صاحب سے ہے۔فیملی ذرائع نے مجھے بتایا کہ دونوں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ زندگی کو نبھایا ہے ، بچوں کو پورا پورا ٹائم دیا ہے، لیکن شاید بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں کہ اس طلاق سے بہت پہلے سے، بشریٰ صاحبہ کا گھر الگ تھا اور اقبال انصاری صاحب کا گھر الگ تھا۔ بشریٰ اپنے بچوں کی شادی کے بعد او راس سے کافی پہلے بھی وہ الگ اپنے گھر میں رہتی تھیں، ان کی ساری ایکٹویٹیز آنا جانا جو ہے وہ الگ تھا۔

مہرین کا کہناتھا کہ بشریٰ انصاری کے بچے کبھی ان کے شوہر کے گھر رہتے تھے اور کبھی ان کے گھر بھی رہتے تھے۔ بیچ میں کئی دفعہ بشریٰ انصاری اپنے شوہر کے ساتھ اکٹھی بھی رہیں اور اپنے بچوں کی شادیوں کے وقت بھی اکٹھی رہیں۔ لیکن یہ آن یا آف چلتا رہا، لیکن آخری ایام جو کچھ سال جو تھے آپس کے وہ اس طرح سے گزرے کہ بشریٰ اپنے گھر میں الگ رہتی تھیں اور ان کے شوہر اپنے الگ گھر میں رہتے تھے۔ البتہ انہوں نے اپنے بچوں کو پورا پورا ٹائم دیا۔ اپنی بیٹیوں کی شادیوں پر بھی اکٹھے ہوتے تھے۔ کہیں بھی اس طرح محسوس نہیں ہوتا تھا لوگوں کو کہ ان میں اس طرح کا کوئی رنجش یا پرابلم ہے۔