بھارتی حکومت کلبھوشن کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہے یا نہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ


حکومت ایک مرتبہ پھر بھارت سے رابطہ کرے کہ وہ کلبھوشن کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق وکیل فراہم کرنے کی وزارت قانون کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ وہ بھارت سے پوچھ کر بتائے کہ وہ کلبھوشن یادو کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل لارجر بنچ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق وکیل فراہم کرنے کی وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کا عدالت کو بتانا تھا کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کی وجہ سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، جس کے باعث وہ عدالت پیش نہیں ہو سکتے۔

بعد ازاں چیف جسٹس اطہر من اللہ کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی جیلوں میں قید چار بھارتی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جبکہ آخری بھارتی قیدی محمد اسماعیل کو بھی بھائی جنوری کو جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا سماعت کے دوران ریمارکس سے دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کیا بھارتی حکومت کلبھوشن یادو والے کیس میں سنجیدہ نہیں؟ انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا حکومت ایک مرتبہ پھر بھارت سے رابطہ کر کے پوچھے کہ وہ کلبھوشن کیس میں پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 فروری تک ملتوی کر دی۔