بھارتی دارلحکومت میں کسانوں کے احتجاج کو ایک ماہ مکمل، اہم شاہرائیں بند


نئی دلی بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں ملک بھر سے آئے کسانوں کی زری پالیسی کیخلاف احتجاجی تحریک جاری ،شاہراہیں تاحال بند ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نئی دلی میں زرعی پالیسی کے خلاف کسان گزشتہ ماہ سے سراپا احتجاج ہیں، کسانوں کے دھرنے کے باعث شاہراہیں بلاک ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے خود ساختہ مذاکرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں انہوں نے من پسند کسان رہنماوں سے بات چیت کی۔مودی کسانوں کے مطالبات پر بات کرنے کے بجائے خود ساختہ مذاکرے میں زرعی پالیسی کے گن گاتے رہے۔ مودی نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے اب تک حکومت اور کسانوں میں مذاکرات کے 6 دور ناکام ہوچکے ہیں۔ ڈی جی پولیس منوج یادیو کےمطابق موسم کی شدت اور ہارٹ اٹیک کے باعث گزشتہ ہفتے 25 کسان ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے ایک کسان نے خود کشی کی۔