بھارتی سکھ فوجی مودی سرکار پربرس پڑا، ویڈیو وائرل


بھارتی سکھ فوجی نے مودی سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

سوشل میڈیا پر بھارتی فوج کے سکھ فوجی کی جانب سے ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی ہے، جس میں بھارتی سکھ فوجی نے انتہا پسند مودی سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ “چائنہ کے خلاف بارڈر پر لڑنے پر میں محب وطن تھا اور اب دلی بارڈر پر کھڑے ہونے پر مجھے غدار قرار دے دیا گیا؟

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بھارتی سکھ فوجی جوان کا کہنا تھا کہ “جب میں یہ وردی پہن کر چائنا کے خلاف چند روز قبل لڑ رہا تھا تو میں بہت بڑا دیش بھگت تھا لیکن آج جب یہی وردی اتار کر میں دلی کے بارڈر پر کھڑا ہوگیا تو مجھے مودی میڈیا نے غدار، دہشت گرد اور خالصتان کا نام دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی فوجی جوان کے گھر میں مسئلہ ہوتا ہے تو اس کا ڈیوٹی کرنے کا دل نہیں کرتا لیکن یہاں پر تو آپ نے آگ لگا دی ہے ان کے گھروں میں، خود بتائے وہ کیسے ڈیوٹی کر سکتا ہے، انہیں جوانوں کی بیوی بچے اور بوڑھے ماں باپ اپنا حق لینے کے لیے دہلی کی سڑکوں پر بیٹھے ہیں، جو ٹھنڈ سے مر رہے ہیں لیکن آپ کو وہ دکھائی نہیں دے رہے بس بزنس مین دکھائی دے رہا ہے۔

بھارتی سکھ فوجی کا مودی سے سوال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ “مودی جی آپ بتائیے کہ کون سے بزنس مین کا بچہ آرمی میں ہے؟ اگر بارڈر پر کھڑے انہیں احتجاجی کسانوں کے بچے بارڈر چھوڑ کر اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور لڑائی لگ جاتی ہے تو کیا چائنا سے آرمی لے کر آؤ گے؟ پورے بھارت کی آرمی پنجاب اور ہریانہ کی سکھوں کے سر پر سرداری کرتی ہے، اتنا برا ماحول پیدا نہ کرو کہ جوانوں کو بھارت چھوڑنے پر اپنے ماں باپ کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے۔

واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کی زرعی پالیسیوں کے خلاف گزشتہ کئی روز سے بھارتی کسان سراپا احتجاج ہیں اور مودی سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ حال ہی میں راجیا سبھا سے پاس کروائے گئے زرعی بل کو واپس لے اور کسانوں کا معاشی قتل بند کرے۔