بھارتی مسلمان کانسٹیبل نے ضعیف ہندوخاتون کی جان بچاکر مثال قائم کردی


بھارتی مسلمان کانسٹیبل نے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔۔ حالت بگڑنے پر ضعیف ہندو خاتون کو اپنے کندھوں پر بٹھاکر دشوارگزار پہاڑیوں سے پیدل ہسپتال پہنچادیا۔۔

بھارت میں ایک طرف تو مسلمان بھارتی انتہاپسند ہندوؤں کے مظالم کا شکار ہیں، آئے روز گائے کے ایشو، پاکستانی شہروں کے نام پر دکان کا نام رکھنے اور دیگر معاملات پر بھارتی انتہاپسند ہندوؤں کے مظالم کا شکار ہوتے ہیں لیکن بھارتی شہر حیدرآباد میں ایک مسلمان کانسٹیبل نے انسانیت کی اعلیٰ مثالم قائم کردیا

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہر حیدرآباد میں مسلمان کانسٹیبل شیخ ارشد نےپیدل ایک بیمار 58 سالہ ہندو خاتون کو اپنی پیٹھ پر لاد کر دشوار گزار پہاڑی راستوں کو عبور کرتے ہوئے 6 کلومیٹر دور چتور ضلع کے راجم پیٹ کے قریب واقع اسپتال میں داخل کروایا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی مشہور پہاڑی پر واقع ترمولا مندر میں ایک خاتون کی حالت بگڑ گئی اور خاتون کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے کوئی ایمبولینس موجود نہیں تھی۔ 58 سالہ شردھا لوناگیشور ماں، لارڈ وینکٹیشورا سوامی کے درشن کے لئے انا مایا مارگم کی سمت پیدل چل کر جارہی تھیں۔ تاہم راستہ میں ہی وہ بلڈ پریشر کی پریشانی کی وجہ بے ہوش ہوکر گر گئیں۔

اس موقع پر ارشد نامی مسلمان کانسٹیبل نے 58 سالہ ہندو خاتون کو پیٹھ پر لاد کر پہاڑی گھاٹیوں سے دشوار گزار راستوں کو عبور کیا اور 6 کلومیٹر دور اسپتال پہنچایا جہاں خاتون کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں کہ ارشد شیخ نے کسی ہندو خاتون کی مدد کی ہو، اس سے قبل بھی ایک خاتون پجاری کو ارشد شیخ ہی اپنے کندھے پر بٹھا کر گھاٹیوں کے دشوار گزار راستوں سے اسپتال پہنچاچکا ہے۔

اس خاتون کو اپنی بیٹھ پر بٹھا کر لے جانے والے مسلم پولیس کانسٹیبل کی اس مثالی تصویر کو اس راستہ سے گزرنے والوں نے کیمرے میں قید کر لیا۔ ان میں سے کسی نے اس کو سوشیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پوسٹ کردیا۔سوشل میڈیا صارفین نےا رشد شریف کی بھرپور پذیرائی کی، جن میں بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت بھی شامل تھی۔