بھارت: مدھیہ پردیش میں بھی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی


مدھیہ پردیش کے وزیرتعلیم اندر سنگھ نے کہا ہے کہ جنہوں نے حجاب پہننا ہے وہ گھروں، بازاروں میں پہنیں، اسکول میں یونیفارم ہی پہننا پڑھے گا۔

بھارت میں مسلم دشمنی اور ہندو توا کا نظریہ عروج پر پہنچ گیا ہے جس کے آئے دن مختلف نوعیت کے مظاہر سامنے آتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے بعد مدھیہ پردیش میں بھی اسکولوں میں حجاب پر پابندی لگانے کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر تعلیم برائے اسکول اندرسنگھ پرمار نے اسکولوں میں حجاب پر پابندی لگانے سے متعلق بات کی ہے۔

وزیر کے اس بیان پر مدھیہ پردیش کی مسلم تنظیموں میں سخت ناراضگی دیکھی جارہی ہے جبکہ کانگریس نے بھی اس بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیرتعلیم برائے اسکول اندر سنگھ پرمار نے مقامی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسکولوں میں بچیوں کو حجاب پہن کر آنے کی اجازت ہوگی تو انہوں نے کہا کہ نہ ہی اس ملک اور نہ ہی مدھیہ پردیش میں حجاب پر پابندی ہے۔

تاہم آگے ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ حجاب پہننا چاہتے ہیں وہ اپنے گھروں میں پہنیں، بازاروں یا دیگر مقامات پر پہنیں لیکن تعلیمی اداروں میں جہاں یونیفارم طے شدہ ہوتا ہے اور سب ہی بچے وہ یونیفارم پہنتے ہیں تو وہاں صرف وہی یونیفارم پہننا پڑے گا۔

وزیر کے اس بیان کو مدھیہ پردیش کانگریس کے ایم ایل اے عارف مسعود نے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچیاں باحجاب ہی اچھی لگتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسا میں اپنی بیٹی کے لیے سوچتا ہوں چاہتا ہوں کہ وزیرتعلیم اندر سنگھ بھی دوسروں کی بیٹیوں کے لیے ایسا ہی سوچیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جیسا کہ تعلیمی اداروں کے نظم ونسق کی بات کررہے ہیں تو انہیں بتاتا چلوں کے ستر سالوں میں کسی تعلیمی ادارے میں حجاب سے تعلیمی نظام خراب نہیں ہوا بلکہ تعلیم کے ماحول میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے طنزیہ کہا کہ حال ہی میں ایک دور ایسا بھی آیا کہ سب کو ماسک لگانا پڑا اور جب خالق ومالک کی مار پڑی تو پورے ملک نے ماسک لگایا، مہربانی کرکے حجاب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں، بچیوں کو باوقار طریقے سے رہنے دیں۔

انہوں نے وزیر کو مشورہ دیا کہ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو تعلیم کے معیار پر فوکس کریں اور مدھیہ پردیش میں سرکاری اسکولوں کی حالت کیا ہے وہ شہروں اور دیہات میں جاکر دیکھ لیں۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ میں ہرسطح پر اس فیصلے کی مخالفت کروں گا اور کسی بھی حالت میں مدھیہ پردیش میں اس طرح کے فرمان کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔