بھارت کے کسی بھی ایڈوینچر کا پہلے کی طرح جواب دیا جائے گا – آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ایڈوینچر کا پہلے کی طرح جواب دیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے گلوبل ویلیج اسپیس کو انٹرویو دیا جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف ڈوزیئر کے اہم نکات اجاگر کر دیئے۔انٹرویو میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال، سی پیک، ففتھ جنریشن وار فیئر سے متعلق سوالات پر بھی میجر جنرل بابر افتخار نے تفصیلی گفتگو کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ڈوزیئر میں بھارتی وزیراعظم کے براہ راست انٹی سی پیک سیل کی تفصیلات شامل ہیں،سوا ل کیا گیا کہ اس خطرےکو دیکھتےہوئے سی پیک کی سیکیورٹی کیسے یقینی بنا رہے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو ڈر ہے سی پیک خطے کا گیم چینجر ہے اور حقیقت میں سی پیک خطے کا گیم چینجر ہی ہے،سی پیک منصوبے میں پورے خطے کی کنیکٹیویٹی کی صلاحیت ہے،سی پیک صرف شمال جنوب اور پاکستان کا نہیں پورے خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے،بھارت کی طرف سے سی پیک پہلے سے ہی سیکیورٹی خطرات کا سامنا کر رہا ہے،سی پیک بہت سی دہشت گردی کی سرگرمیوں کا نشانہ ہے،بھارتی سی پیک منصوبے کی ٹائم لائن مکمل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں،وہ سمجھتے ہیں رکاوٹیں ڈالنے سے یہ منصوبہ کہیں نہ کہیں جا کر رک جائے گا۔

سوال کیا گیا کہ آپ نے کہا سی پیک خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے تو کیا بھارت خطے کی خوشحالی کے خلاف ہے؟جس پر ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ سی پیک کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سے سوال کیا گیا کہ آپ اور وزیر خارجہ کی ڈوزیئر سے متعلق پریس کانفرنس کا عالمی برادری نے اب تک کیا ردعمل دیا؟ جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت پانچ اگست 2019 کے اقدام کے بعد سے ہی عالمی سطح پر کمزور پوزیشن پر ہے، ڈوزیئر سامنے آنے کے بعد پاکستان کا دیرینہ موقف عالمی برادری پر ثابت ہوا ہے،پاکستان دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے ایشوز پر جو کچھ کہتا رہا، ڈوزیئر میں ثبوت سامنے لایا،بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوتوں کو عالمی برادری نے بہت سیئریس لیا ہے اور ڈوزیئر سامنے آنے کے بعد دنیا اب بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی پر کھل کر بات کر رہی ہے،بھارتی تمام تر کوششوں کے باوجود عالمی فورمز اور ذرائع ابلاغ پر بحث چل نکلی ہے،فارن آفس نے ڈوزیئر کو پی فائیو میں پیش کیا، پھر اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کو پیش کیا گیا،اب آپ نے دیکھا او آئی سی فورم سے تازہ ترین اعلامیہ سامنے آیا،ہم یہاں رکیں گے نہیں، عالمی سطح پر اس سنگین معاملے کو مزید آگے لے جائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی صورتحال،ناگروٹا واقعہ پر بھارتی الزام تراشی کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو نام نہاد پاکستانی مداخلت سے جوڑ دیا جائے،بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتا ہے، فالس فلیگ آپریشنز اور ایسے ڈرامے رچاتا ہے،دوسری جانب ناگوروٹا واقعہ میں بھارت کچھ نیا نہیں کر رہا،یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا بھارت گزشتہ فالس فلیگ آپریشنز میں کرتا آیا ہے،ناگوروٹا میں کیا ہوا،کیا بھارت نے دنیا سے کوئی انفارمیشن شیئر کی؟مقبوضہ کشمیر کے اندر جو کچھ ہوتا بھارت ہمیشہ اس کا انکاری رہا ہے،یہ مکمل طور پر ایک خود مختار جدوجہد آزادی ہے، ستر سال سے جاری ہے،یہ ممکن نہیں کہ سرحد پار سے جا کر ایسے واقعات ہوں،پاکستان ہمیشہ حالات نارمل کرنا چاہتا ہے،وزیراعظم نے کہا تھا بھارت ایک قدم آگے بڑھائے ہم دو بڑھائیں گے،ہمیں خطے کی صورتحال کو نارملائز کرنے کی ضرورت ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ایڈوینچر کا پہلے کی طرح جواب دیا جائے گا جبکہ بھارتی دہشت گرد کے حوالے سے سوال پر انہو ں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستانی عدلیہ ایک غیر جانبدارانہ موقف رکھتی ہیں،بھارت کو پاکستانی عدالتوں سے تعاون کرنا چاہیے۔​