ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز ایڈمنسٹریٹرز کو ملیں گے، لاہور ہائی کورٹ


لاہور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کی فراہمی کیلئے درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے فریقین کو مزید دلائل کیلئے 26جنوری کو طلب کرلیا، اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کی مقررہ مدت ختم ہوگئی ہے اب کیا ہوسکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں آپ کی درخواست زائدالمیعاد ہوچکی ہے، آپ اس بات کو ذہن میں رکھ کر دلائل دیں، اب بلدیاتی نمائندوں کی بجائے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز ایڈمنسٹریٹرز کو ملیں گے۔

اس موقع پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے جو کیا وہ اب وہی کرے گی؟ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں کررہی ہے؟

سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ حلقہ بندیوں کے لیےانتظامات کیے جارہے ہیں، اس کام کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں شیڈول بعد میں جاری ہوگا،12دسمبرکو نیا آرڈیننس جاری ہوا اس وجہ سے تاخیر ہوئی۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ اہم سوال یہ ہے کہ آرڈیننس 3ماہ میں ختم ہوجائے گا تو پھر کیا ہوگا، پھر پرانا قانون بحال ہوجائے گا یا پھرآرڈیننس جاری ہوگا؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت کی معاونت کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قانون سازی نہ کرکے آئین کا مذاق اڑایا جارہا ہے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بلا لیتے ہیں، یہ آرڈیننس کہاں پر ہے کیا قانون سازی پر کام کا آغاز ہوا؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس پڑا ہے پاس پر کام جاری ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت قانون سازی کیلئےحکم جاری نہیں کرسکتی بتایا جائے آرڈیننس کب تک قانون بن جائے گا؟