ترکش گلوکارہ جو اردو اور ہندی گانے کی شوقین ہیں

ترکی کے شہر انقرہ میں رہنے والے اویکوگل 22 سال کی ہیں اور وہ ترکی میں کلاسیکی موسیقی کی یونیورسٹی میں طالب علم ہیں،انہوں نے بتایا کہ وہ 8یا 9 سال کی تھیں جب سے وہ اردو زبان اوربالی ووڈ سے متعارف ہوئی تھیں۔

اویکوگل نے بتایا کہ انہوں نے سب سے پہلے بالی ووڈ کی لگان فلم دیکھی تھی جس کا گانا “رادھا کیسے نہ جلے” سننے کے بعد ان کو اردو میں گانے کا شوق جاگا اور اس طرح ان کی اردو موسیقی میں دلچسپی بڑھی اور وہ اردو میں گانے گانے لگیں۔

ترک گلوکارہ نے بتایا کہ وہ ویسے اردو زبان نہیں جانتیں مگر اردو زبان میں گانا ان کو بہت پسند ہے کیونکہ اردو اور ترکی کی زبان میں کئی الفاظ ایک جیسے ہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عشق، دشمن، اجنبی، درد، مرہم اور اس طرح کے کئی اور الفاظ ہیں جو کہ ایک ہی طرح ادا کیے جاتے ہیں۔

ترک گلوکارہ نے کہا کہ ان الفاظ سے ان کو بہت مدد ملتی ہے اور وہ گھر میں ہر وقت اردو موسیقی کی مشق کرتی رہتی ہیں مگر ان کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ کوئی ترک زبان میں گانا گا کر سناؤ۔
انہوں نے بتایا کہ وہ جب ترکی میں کسی کو اردو زبان میں گانا سناتی ہیں تو وہ لوگ بہت حیران ہوتے ہیں کیونکہ یہ موسیقی ترکی گائیکی سے بہت مختلف ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اویکو گل نے کہا کہ اگر ان کو کوک اسٹوڈیو جیسے کسی پلیٹ فارم پر گانے کا موقع ملے تو وہ کلاسک یا غزل کے انداز میں گانے کو ترجیح دیں گی۔