تقریر: ’عدالت مفرور ملزمان کو ریلیف نہیں دے سکتی‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالت مفرور ملزمان کو ریلیف نہیں دے سکتی۔
جمعرات کو پیمرا کی جانب سے مفرور ملزمان کی تقریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پیمرا کی پابندی کو ختم کیا گیا تو ہر مفرور چاہے گا اسے ایئر ٹائم دیا جائے۔
درخواست ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور صحافیوں نے دائر کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ وہ درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ آپ ریلیف کس کے لیے مانگ رہے ہیں۔
’اس آرڈر کا کسی کو تو فائدہ ہوگا۔‘ عدالت جنرل پرویزمشرف کیس میں پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حالیہ سالوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عدلیہ کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔ ’پرویز مشرف کیس میں کہہ چکے کسی مفرور کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔‘
بینچ نے ریمارکس دیے کہ مفرور ملزم کی تو شہریت منسوخ ہوسکتی ہے۔ ’مفرور ملزم کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کیا جاتا ہے۔‘
عدالت نے کہا کہ مفرور ملزم پہلے عدالت کے سامنے سرنڈر کریں پھر وہ قانونی حقوق سے فائدہ اٹھائیں۔
عدالت نے وکیل سے پوچھا کہ پیمرا نے کس پر پابندی عائد کی ہے،؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ پیمرا نے کسی کے خلاف آرڈر پاس نہیں کیا۔
اس پر عدالت نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں۔ ’اس آرڈر سے دو لوگ متاثر ہیں۔‘
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دو نہیں ہزارواں افراد متاثر ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ جو متاثرہ فریق ہے وہ پیمرا کے حکم کے خلاف اپیل کرسکتا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی۔