تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔ ہمیں یاد ہے ذرا ذرا


کبھی غور کریں تو ایک شخص یاد آتا ہے، اچھا ہوا کرتا تھا بیچارا، عوام کا بہت دکھ تھا اسے، ہر وقت عوام کے غم میں غمگین دکھائی دیتا، مہنگائی کی دہائیاں دیتا تھا۔ عوام میں اس وقت کے حکمرانوں کے خلاف”شعور“ اجاگر کرنے کا دعویٰ لے کر وہ میدانِ سیاست میں اترا تھا۔ سالوں کی محنت کا دعویٰ ایک طرف تھا اور دوسری طرف اس شخص کے بقول ملک کو لوٹنے والے تھے۔ وہ یہ بھی کہا کرتا تھا ملک کی موجودہ حالت کی ذمہ دار ملک کی دونوں بڑی پارٹیاں ہیں جنہوں نے پینتیس سال ملک پر راج کیا مگر عوام کے لیے کچھ نہ کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت آئے گی تو ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں اسی شخص نے ایک بڑا جلسہ بھی کیا۔ اس جلسے میں بجلی کے بل جلائے گئے، عوام کو سول نافرمانی کی تحریک دی گئی۔ بل جلاتے کہا گیا کہ جب ملک میں بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کے ذمہ دار حکمران ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کی چوری کی قیمت عوام مہنگی بجلی سے ادا کرتے ہیں۔ تاہم کنٹینر پر بل جلائے گئے اور ساتھ یہ کہا گیا کہ اس حکومت کی چوری کی قیمت ہم مہنگی بجلی سے کیوں ادا کریں۔ عوام بھی بھولے تھے، باتوں میں آگئے، کچھ ویسے ”تبدیلی“ کا بخار چڑھا تھا۔ پھر2018 میں ”تبدیلی“ کی ہوا زور پکڑ گئی اور جولائی2018 میں وہ شخص اس مقصد میں کامیاب ہو گیا جو اس کی تمنا تھی۔ حکومت بننے کے بعد کہا گیا 90 روز میں سب ٹھیک کردیں گے، پھر کہا گیا چھ ماہ میں قوم کے حالات بدل جائیں گے،پھر کہا گیا ایک سال میں ملک کی تقدیر بدل کررکھ دیں گے۔ اب اڑھائی سال گزرنے کے بعد کہا جارہا ہے کہ ہمارے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں کہ رگڑیں اور سب ٹھیک ہو جائے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی جادوئی بٹن نہیں کہ دبائیں اور خراب معاملات سیٹ ہو جائیں۔اوراب ایک نئی منطق سنا دی گئی ہے کہ پارلیمانی نظام پانچ سال کا ہوتا ہے اسلئے ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ حکومتیں طویل المدتی منصوبوں کے بجائے پانچ سال کے لیے منصوبوں کا سوچتی ہیں۔ یہ بات یہاں سے غلط ثابت ہوتی ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں موٹر وے بنائی گئی جوکہ ایک طویل المدتی منصوبہ ہے،مسلم لیگ ن کے دور میں بجلی کے کارخانے لگے جوکہ طویل المدتی منصوبہ ہے، میٹرو بس بنی جس سے عوام اب تک مستفید ہو رہے ہیں۔لاہور میں کڈنی اینڈ لیور ہسپتال بنا جو کہ پاکستان کے اعلیٰ ترین ہسپتالوں میں سے ایک ہے، یہ سب اور کئی اور منصوبے صرف پانچ سال کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔ اب آتے ہیں اس معاملے کی طرف جس سے آغا ز تھا مہنگی بجلی اور پٹرول کی قیمت کی طرف۔ بجلی کی قیمتوں پر جو تب واویلا کیا جاتا تھا اب اسی ”عوامی ہمدرد“ کے دور حکومت میں بجلی کے بل عوام کے لیےدرد سر بن چکے ہیں۔ رواں ماہ حکومت وقفے وقفے سے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں چار روپے32 پیسے اضافہ کر چکی ہے۔ جس سے بجلی کی فی یونٹ قیمت تیرہ روپے سے بڑھ کر 16 روپے ہو گئی ہے اس سے عوام پر 295ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ جب ان سے بجلی کی قیمت بڑھنے کی وجہ پوچھی جائے تو کہا جاتا ہے سابقہ حکومتوں کے معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمت بڑھانا پڑ رہی ہے۔ اب سوال تو یہ بنتا ہے کہ کیوں نہ اب عوام بجلی کے بل جلائیں اور پوچھیں کہ آپ کی عیاشیوں اور نااہلی کی قیمت ہم مہنگی بجلی سے کیوں ادا کریں؟ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اب پھر اوگرا کی جانب سے 16 روپے فی لیٹر تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سفارش کی گئی، مگر شکر خداکا کہ حکومت نے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی سمری مسترد کردی ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ حکومت آئندہ پندرہ روز میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ضروری کرے گی، جس کے اثرات لازمی طور پر ہرچیز کی قیمتوں پر ضرور پڑیں گے۔ اشیائے خورونوش تو پہلے ہی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ جب ان سے وجوہات پوچھی جائیں تو کہا جاتا ہے ہم نئے ہیں، ہماری تیاری نہیں تھی، سب کچھ سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اب تو عوام اس شخص کی تلاش میں بھی ہیں جو گیس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے طریقے اسمبلی میں بڑے شدومد کے ساتھ بتایا کرتا تھا۔ کوئی ان سے پوچھے تین برس ہونے کو ہیں آپ کو عنان اقتدار سنبھالے ہوئے آپ کی اپنی کارکردگی کیا ہے؟ کیا ان کی نظر میں کارکردگی یہ ہے کہ مخالفین کے خلاف چار پریس کانفرنسز روز ٹھوک دو باقی اللہ اللہ خیر سلا۔۔۔؟

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ “03009194327” پر بھیج دیں.