جب قوم اچھے اور برے میں تمیز ختم کردیتی تو قوم تباہ ہوجاتی ہے: وزیراعظم


اسلام آباد وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب ایک قوم اچھے اور برے کی تمیز ختم کردیتی ہے تو وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے۔

علمامشائخ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شروع میں لوگ مسلمان تاجروں کا کردار دیکھ کر مسلمان ہوئے۔پاکستان کو بنانے میں علما اور مشائخ کا بڑا کردار ہے،میں نے ہر فورم پر اسلام فوبیا پر بات کی،مغرب نے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑ دیا،مگر مسلمان ملکوں سے اس کا رسپانس نہیں آیا۔دہشت گردی کا اسلام یا کسی اور دین سے تعلق نہیں ہے۔سب سے زیادہ خود کش حملے تامل لوگوں نے کئیے جو کہ ہندو تھے،جاپانیوں نے امریکہ پر خود کش حملے کئیے مگر ان کے اس عمل کو مذہب کیساتھ نہیں جوڑا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ مغرب کا دین کے حوالے سے رویہ ہم سے بالکل مختلف ہے۔مسلمان رہنماؤں کو ہر فورم پر اللہ کے نبی سﷺے اپنے عشق کو بیان کرنا چاہیے تھا۔مسلمانوں کو باہر اسلام فوبیا کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،خواتین پر نقاب کی وجہ سے آوازیں کسیں جاتی ہیں۔سلمان رشدی ایک فتنہ تھا،مگر اس کا ٹھیک طریقے سے جواب نہیں دیا گیا۔تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو خود لکھا کہ وہ اسلام فوبیا پر انٹرنیشنل فورم پر بات کریں۔یہودیوں کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا ،یہودی منظم ہیں،ہولو کاسٹ پر کوئی بات نہیں کرسکتا،چار یورپی ممالک میں ہولو کاسٹ پر بات کرنے پر لوگوں کو جیل بھجوادیا جاتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جو بھی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے گا اللہ اس قوم کو اوپر اٹھا دے گا۔جن پر اربوں کی چوری ثابت ہوگئی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دیں۔ملک تب تباہ ہوتے ہیں جب وزیراعظم اور بڑے لوگ چوریاں کرتے ہیں،گائے اور بھینس کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتے۔ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملکوں سے چوری ہوکر باہر چلا جاتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آٹھ سے نو صحافی سپریم کورٹ چلے گئے کہ نواز شریف کو تقریر کرنے کی اجازت دی جائے یہ وہی شخص ہے جس کی چوری ثابت ہوچکی ہے یہ شخص جھوٹ بول کر ملک سے چلا گیا۔کرپشن ملک کا سب سے بڑا کینسر ہے۔ہمیں اختلافات ختم کرکے ایک ہونے کی ضرورت ہے۔لوگوں میں اتحاد پیدا کرنا اللہ کے نبی ﷺ کی سنت ہے۔ انہوں نے علما سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کو سچ بولنے،صفائی کے فوائد کے متعلق بتائیں۔