جب نوازشریف نے عمران خان اور ورلڈکپ 92 کی فاتح ٹیم کیلئے تقریب کا اہتمام کیا


پاکستان کو 92ء کا ورلڈ کپ جیتے29 برس بیت گئے، جانیئے اس جیت پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے کیا کہا تھا؟

سنہ1992ء میں جب پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تو اس وقت قومی ٹیم کے کپتان عمران خان تھے جو کہ اب پاکستان کے وزیراعظم ہیں جبکہ اس وقت ملک کے وزیراعظم نواز شریف تھے۔ ٹیم جب ورلڈ کپ جیت کر پاکستان آئی تو اس کا شایان شان استقبال کیا گیا۔

1992 میں ملنے والی اس تاریخی کامیابی پر قومی ٹیم کیلئے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ایک عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں شمولیت پر نواز شریف نے ورلڈ کپ میں شامل قومی ٹیم کیلئے اسلام آباد میں ایک ایک کنال کا پلاٹ اور ہر کھلاڑی کو 2،2 لاکھ روپے نقد انعام دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔

نوازشریف کی جانب سے منعقد کردہ عشائیے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ یہ فتح ہمیں درس دیتی ہے کہ عارضی ناکامیوں سے مایوس ہونے کے بجائے ان سے سبق سیکھنا چاہئے۔ ہمت و عظم اور بہتر کارکردگی سے شکست فتح میں بدل جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معاشرتی زندگی اور مسائل کے حل میں اسی جذبے سے کام لینا چاہئے۔

اس موقع پر کپتان عمران خان نے فائٹنگ اسپرٹ کو جیت کی وجہ قرار دیا۔ جس کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے عمران خان و دیگر کھلاڑیوں کو حسن کارکردگی کی سند دی اور آخر میں ٹیم کے ہمراہ ورلڈکپ کیساتھ تصویر بنائی۔ نواز شریف کی عمران خان اور ٹیم کے ساتھ اس عشائیے کی خصوصی ویڈیو آج سوشل میڈیا پر زیرگردش ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر عمران خان کو مسلم لیگ ن میں شمولیت کی بھی پیشکش کی تھی لیکن عمران خان نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور کچھ عرصہ بعد اپنی ہی جماعت بناکر سیاست میں قدم رکھ لیا اور اس دن کے بعد نوازشریف اور عمران خان ایک دوسرے کے سخت حریف سمجھے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ٹیم میں عمران خان کپتان اور نائب کپتان جاوید میانداد تھے۔ دیگر کھلاڑیوں میں وسیم اکرم، عاقب جاوید، انضمام الحق، رمیز راجہ، سلیم ملک، عامر سہیل، معین خان اور مشتاق احمد بھی شامل تھے۔