جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظرثانی کیس: سپریم کورٹ کا بینچ کی تشکیل پر فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ میں آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار کے وکیل لطیف آفریدی خرابی صحت کے باعث آج عدالت عظمیٰ میں پیش نہ ہوسکے، وکیل کی عدم پیشی پر سپریم کورٹ ہدایت کی کہ لطیف آفریدی اپنے دلائل تحریری صورت میں بھجوا دیں، بینچ کی تشکیل کی حد تک فیصلہ محفوظ کیاجاتا ہے۔

جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے صدر بارلطیف آفریدی سے ایک ہفتے میں دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ کیس میں جسٹس قاضی فائز سمیت دیگر درخواست گزاروں نےچھ رکنی بینچ پر اعتراض عائد کیا تھا، گزشتہ سماعت پر صدر سپریم کورٹ بار نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ کرنے والا 10 رکنی بینچ ہی کیس کی سماعت کرسکتا ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس میں کہا تھا کہ نظرثانی کیس میں بتانا ہوتا ہے کہ فیصلے میں غلطی کیا ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ہم کسی خاص کیس پر نہیں اصول پر بات کر رہے ہیں، جج کا شامل ہونا ضروری ہے تو تمام کیسز میں ضروری ہے۔

وکیل منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ ناممکن نہ ہو تو اسی بینچ کو نظر ثانی کیس میں بیٹھنا چاہیے، ججوں کی تعداد نظر ثانی کیس میں تبدیل یا کم نہیں ہونی چاہیے۔

گزشتہ سماعت پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے عدالت سے سوال کیا تھا کہ کیا میں کیس کی کارروائی کی ریکارڈنگ یا ٹرانسکرپٹ حاصل کر سکتی ہوں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ آ پ رجسٹرار آ فس میں درخواست دے سکتی ہیں، آپ سے ہمدردی ہے آپ کو وکیل کی معاونت لینی چاہیے۔