جماعت اسلامی کا وزیراعظم کواعتماد کا ووٹ نہ دینےکا اعلان لیکن مجموعی طور پر کتنے ووٹ ملنے کا امکان ہے؟ عامر لیاقت حسین نے دعویٰ کردیا


اسلام آباد  جماعت اسلامی کے امیر اور سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے اور ہم حکومت کے خلاف اپنی تحریک چلائیں گے، عمران خان کو اعتماد کا ووٹ لینے کی کیا ضرورت پڑی؟ ان کے اپنے لوگوں نے ان پر عدم اعتماد کیا۔ عمران خان کہتے ہیں ہمارے بندے بکے ہیں تو بکنے والوں کو پارٹی میں شامل کیوں کرتے ہیں۔تاہم دوسری طرف تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے جمہوری روایات کو زندہ کر دیا ہے، اعتماد کے 180 ووٹ حاصل کریں گے، اپوزیشن کل عدم اعتماد کے ووٹ اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بھی ناکام ہوگی۔

گوجرانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ 26مارچ کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے لانگ مارچ میں شرکت نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا، تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت نے الیکشن کے حوالے سے کوئی اصلاحات نہیں کیں جبکہ عمران خان کا دھرنے میں شفاف الیکشن کا مطالبہ تھا مگر اب 3 سال میں کوئی قانون سازی نہیں کی۔ یہی صورتحال رہی تو آئندہ جنرل الیکشن پر بھی لوگوں کا اعتماد نہیں رہے گا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نئے سینیٹر کو موقع ملا وہ عوام کے لیے کچھ سوچیں کچھ کریں۔

ادھر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ پیسہ بھی چلے گا اور اب خان صاحب کا بیٹ بھی چلے گا جبکہ پنجاب میں اپوزیشن ناکام ہوگی اور پرویزالہیٰ عثمان بزدار کو بچالیں گے۔رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ حیدر گیلانی کی ویڈیو میں جو 4 ایم این ایز ہیں ان سب کا پتہ ہے اور یہ سب کراچی کے ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیفٹ کا انڈیکیٹر دے کر رائٹ پر جا رہی ہے، اصل مسئلہ مہنگائی ہے اور مہنگائی ختم ہو جائے تو عمران خان 10الیکشن جیت جائیں گے۔