جن سے ٹیکس لینا تھا انہوں نے کام نہیں کرنے دیا،سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی


نجی ٹی وی چینل کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ جن لوگوں سے ٹیکس لینا تھا ان لوگوں نے ہی مجھے چلنے نہیں دیا، وزیر اعظم عمران خان، بیورو کریسی اور اداروں نے بھرپور تعاون کیا، مگر بینکوں سے مجھے معلومات نہیں ملیں جس کی وجہ سے میں ناکام ہوا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایسا نظام بنا دیا گیا ہے کہ قانونی طریقے سے بھی اربوں ڈالر ملک سے باہر بھیجے جا سکتے ہیں۔ قانونی طریقے سے پیسے باہر بھیجنے کا قانون بھی نواز شریف کا ہی تحفہ ہے۔ کسی پلانٹ یا مشینری کی درآمد پر 40 سے 50 بلین ڈالر کمیشن باہر جاتا ہے، اس طرح بڑے پیمانے پر رقوم بیرون ملک جاتی ہیں۔

ایسے کاروبار بھی ہیں جو کاغذات پر موجود ہی نہیں لیکن چل رہے ہیں، پاناما ایشو کے موقع پر کہا تھا قانونی طریقے سے پیسہ باہر گیا ہے، پاکستان کا 200 بلین ڈالر قانونی طریقے سے باہر گیا ہے۔ پاکستانیوں کے اب بھی 150 بلین ڈالر بیرون ملک موجود ہیں۔

شبر زیدی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں آپ کچھ بھی کر لیں ایک ہزار ارب کا سرکولر ڈیٹ رہے گا ہی رہے گا، یہ سرکولر ڈیٹ نہیں بلکہ ایک ہزار ارب کی سبسڈی ہوگی، آئندہ 5 سال تک کوئی بھی اس سرکولر ڈیٹ کو ختم نہیں کر سکے گا، صرف بجلی کی سبسڈی ہزار بلین کی ہے۔

سابق چیئرمین ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا سی این آئی سی سسٹم کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی، مختلف ریفارمز کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا، شناختی کارڈ کو این ٹی این نمبر بنانے کی کوشش کی اس میں بھی ناکامی ہوئی، بڑا موقع دیا گیا لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے متعلق کہا کہ ان جیسا شریف اور سیدھا انسان کم دیکھا، مجھے شرمندگی تھی کہ انہوں نے مجھ پراعتماد کیا لیکن میں نتائج نہیں دے سکا۔