حامیزہ مختار کا بابراعظم فیملی پر پیسوں کی آفر کا الزام، بابراعظم کا جواب


ہراسانی و بلیک میلنگ کیس کی مدعیہ حامیزہ مختار کا بابر اعظم کی جانب سے پیسوں کی آفر کا دعویٰ

لاہور کی مقامی عدالت میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف زیر سماعت ہراسانی و بلیک میلنگ کیس میں مدعیہ و درخواستگزار خاتون حامیزہ مختار نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بابر اعظم کی فیملی کی جانب سے معاملے سے پیچھے ہٹنے کے لیے 20 لاکھ روپے کی آفر دی گئی ہے۔

حامیزہ مختار نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ان پیسوں کا لالچ براہ راست نہیں بلکہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے دلایا گیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایف آئی اے میں اپنے تمام تر الزامات سے متعلق ریکارڈ جمع کرا دیا ہے کیونکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ان کا موبائل فرانزک کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

دوسری طرف بابر اعظم کے اہل خانہ کی جانب سے سیشن کورٹ کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے جس میں خاتون حامیزہ مختار کو فریق بنایا گیا ہے اور درخواست دیتے ہوئے موقف اپنایا گیا ہے کہ بابر اعظم قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور بہترین پلئیر ہیں، بابر اعظم کئی بین الاقوامی ریکارڈ اپنے نام کرچکے ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سیشن عدالت نے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے، بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم سائبر کرائم رولز 2018 کے منافی ہے، مقدمہ درج کرنے کے حکم میں وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں جسٹس آف پیس مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کے پابند نہیں۔ بابر اعظم معصوم ہے اور ہائیکورٹ سے انصاف مانگ رہا ہے، سیشن عدالت نے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے، درخواست کے حتمی فیصلے تک مقدمہ درج کرنے کے فیصلے کو معطل کیا جائے۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل لاہور کی سیشن عدالت نے ایف آئی اے کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سماعت پر ایف آئی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ خاتون کا بابر اعظم سے ریلیشن شپ کا دعویٰ سچ ہے۔