حفیظ شیخ نے بطور وفاقی وزیر حلف اٹھایا، مزید 2مشیروں کو وزیر بنائے جانے کا امکان


مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بطور وفاقی وزیر خزانہ حلف اٹھالیا۔۔۔ مشیر تجارت اور معاون خصوصی صحت کو 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر بنائے جانے کا امکان

تفصیلات کے مطابق تقریب حلف براداری ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد کی گئی، تقریب حلف برداری میں عسکری، سیاسی حکام نے شرکت کی، صدر مملکت عارف علوی نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے حلف لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے مشیران کی کابینہ کمیٹیوں میں شمولیت سے متعلق فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے آئینی بحران سے متعلق وزیراعظم نے قانونی ٹیم سے مشاورت کی، نجی ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم نے مشاورت کے بعدمزید ایک مشیر اور ایک معاون خصوصی کو وفاقی وزیر بنانے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔

اس ممکنہ فیصلے کے بعد مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کو 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر مقرر کیا جا سکتا ہے۔

اگر وزیراعظم ایسا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ قانونی طور پر آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 6 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کریں گے۔ اس قانون کے تحت وزیراعظم کسی غیر منتخب شخص کو 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر منتخب کر سکتے ہیں۔

امکان ہے کہ حفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد اور معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کو آئندہ سال مارچ کے مہینے میں سینیٹر بنایا جائے گا جس کے بعد انہیں خصوصی طور پر وفاقی وزیر کے عہدے تفویض کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر رہے پھر 1990 کے عشرے میں سعودی عرب میں عالمی بینک کے ڈائریکٹر اکنامک آپریشنز کے فرائض انجام دیئے۔

حفیظ شیخ نے 21ممالک میں ماہر معاشیات کے طور پر خدمات سر انجام دیں، بعدازاں 2000سے 2002کے دوران سندھ کی صوبائی حکومت میں وزیر خزانہ و منصوبہ بندی رہے پھر 2003سے 2006 کے دوران انہوں نے وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری کے طور پر فرائض انجام دیئے۔

انہوں نے پیپلز پار ٹی کے دور میں 2010سے 2013کے دوران وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔