خیبرپختونخوا حکومت کا سرمایہ کاری کے لیے کرپٹو کرنسی “مائننگ فارم” بنانے کا منصوبہ


خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر ہائیڈرو الیکٹرک پاورڈ پائلٹ مائننگ فارمز بنانے کا اعلان کر دیا۔صوبائی حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب بٹ کوائن کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے بھی سرمایہ کاری کے لیے کرپٹو کرنسی کو قانونی بنانے کے حوالے سے کام شروع کر دیا ہے۔بٹ کوائن کی قیمت میں بڑا اضافہ اس وقت دیکھنے کو آیا جب دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اس میں اپنے کروڑوں ڈالر انویسٹ کیے۔

یاد رہے کہ اس وقت ایک بِٹ کوائن کی قیمت 58ہزار 551 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔پاکستان کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ایسے وقت میں کام کرنے کا سوچ رہا ہے جب ہمسایہ ملک بھارت میں اس پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ضیا اللہ بنگش نے کہا کہ کرپٹو کرنسی پر کام کرنے کے لیے کمپیوٹر ڈیٹا بیس کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے بڑی مقدار میں بجلی چاہیے ہوتی ہے اس لیے اس منصوبے کی لاگت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ پہلے ہی ہم سے سرمایہ کاری سے متعلق پوچھتے ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ لوگ دوسرے صوبوں کی طرف جانے سے پہلے کے پی آئیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں۔