خیبرپختونخوا حکومت کا پی ڈی ایم کو پشاور میں جلسہ کی اجازت دینے سے انکار

0
33

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کو شہر میں‌ جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس پر اپوزیشن نے دمادم مست قلندر کرنے کی دھمکی دیدی اور اعلان کیا کہ وہ ہر صورت جلسہ کریں گے

پی ڈی ایم کو پشاور میں جلسے کی اجازت سے انکار کرتے ہوئےضلعی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ عوامی اجتماع کےباعث کورونا مزید پھیلنےکا شدید خدشہ ہے، شہر میں کورونا کی دوسری لہر آنے کے سبب کیسز میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو مراسلہ ارسال کر دیا۔

پیپلزپارٹی ، ن لیگ اور جے یو آئی (ف)نے پشاور پی ڈی ایم جلسے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ مسترد کر دیا اور کہا کہ 22 نومبر کو دمادم مست قلندر ہوگا، ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی کی بی ٹیم ہے، این او سی نہ دینا حکومتی چال ہے۔

پیپلزپارٹی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پشاور میں جلسہ ہر صورت میں ہوگا، ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی کی بی ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے، خیبر پختونخوا کے عوام اور جیالے تیاری کرلیں، 22 نومبر کو دمادم مست قلندر ہوگا۔

ن لیگ کے صوبائی ترجمان اختیار ولی کا کہنا تھا پی ڈی ایم جلسے کی اجازت نہ دینا امتیازی سلوک ہے، عمران اور محمود خان نے کس کی اجازت سے سوات مہمند، باجوڑمیں جلسے کئے ؟۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ ہدایات کے باوجود جلسہ کرنے پر اصرار کیا گیا تو پی ڈی ایم قیادت کیخلاف مقدمات درج ہونگے۔ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ کورونا میں اضافہ ہوا تو ذمہ دار اپوزیشن ہوگی۔